انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 346 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 346

۳۴۶ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث تفصیل نہیں بتائی البتہ بعض باتیں بتائی ہیں اور بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض باتوں کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی مثلاً تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ( جو تیسرے سپارے کی پہلی آیت ہے اس میں فضیلت کی ایک وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ بعض انبیاء صاحب شریعت ہوتے ہیں اور بعض انبیاء صاحب شریعت نہیں ہوتے۔شاید بعض دوسری جگہ کوئی دوسری وجہ فضیلت بیان ہوئی ہولیکن اس وقت میرے ذہن میں مستحضر نہیں لیکن قرآن کریم سے ہمیں یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فضیلت کی بعض وجوہ کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی باوجود اس کے کہ بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی گئی ہے پھر بھی ہمیں یہ بتایا گیا ہے لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ (البقرۃ: ۲۸۲) یعنی فی نفسِ رسالت رسول اور رسول میں فرق نہیں کرنا۔اسی قسم کی بعض دوسری آیات میں بھی اسی قسم کا مفہوم بیان ہوا ہے۔پس فضیلت بھی ہے اور ان رسل میں فرق بھی نہیں کرنا یعنی نفسِ رسالت میں کوئی فرق نہیں ہے جو صاحب شریعت رسول ہے اور جو صاحب شریعت رسول نہیں ان دونوں رسالتوں میں نفسِ رسالت میں کوئی فرق نہیں دونوں رسول ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی حکمت کا ملہ سے مختلف زمانوں اور مختلف ممالک میں بسنے والی قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ان میں ایک رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسے بھی ہیں جن کو ساری دُنیا کی طرف سارے زمانوں کیلئے اور تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے بھیجا گیا۔بایں ہمہ نفسِ رسالت میں ان میں اور دیگر رسل میں کوئی فرق نہیں۔پس فضیلت بھی ہے نفسِ رسالت میں کوئی فرق بھی نہیں ہے۔یہ رسل کے بعض بنیادی حقائق ہیں جن کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاسکتا چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر قرآن عظیم صرف رسول کہتا تو نفس رسالت میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی فرق نہ رہتا یا حضرت بیٹی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان نفسِ رسالت میں کوئی فرق نہ رہتا اگر چہ فضیلت اپنی جگہ پر ہوتی لیکن اتنی نمایاں فضیلت کہ جو تمام انبیاء سے آپ کو ممتاز کر دے اس کی ہمیں سمجھ نہ آتی۔اس لئے قرآن کریم نے جہاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کہہ کر رسالت کے مقام پر تمام رسل اور انبیاء کے برابر کھڑا کر دیا وہاں آپ کو ایک اور اعلیٰ مقام عطا فر ما یا جس کا ذکر سورۃ احزاب کی آیت ۴۱ میں موجود ہے۔اس لحاظ سے آپ رسول بھی ہیں