انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 343 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 343

۳۴۳ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث الثالثة ذریعہ سے کمال طور پر حاصل کر لو گے تو پھر جو دشمن کے منصوبے اور سازشیں ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گی۔تمہیں جو خوف اور غم ہے وہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ یا درکھو کہ إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ ( البقره : ۱۵۴) اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ثبت اقدامنا پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبر کرو اور صبر پر دوام کے حصول کے لئے بھی دعا کر د یعنی یہ بھی دعا کرو کہ تمہیں کمال صبر کی توفیق ملے اور یہ بھی دعا کرو کہ تمہیں صبر پر دوام کی توفیق بھی ملے۔ہمیشہ ملتی رہے یہ نہیں کہ چند سال تو خدا کے لئے تکالیف برداشت کر لیں اور پھر دل ٹوٹ گیا اور ہمت ہار بیٹھے اور جو کچھ حاصل کیا تھا وہ بھی کھو بیٹھو اور انجام بخیر نہ ہوا۔اس واسطے ثبات قدم کے لئے دعائیں کرتے رہا کرو اور ثبات قدم خدا کے فضل سے اس کو ملتا ہے جو صبر سے کام لیتا ہے۔سورہ محمد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرُكُمْ وَيُثَبِّتُ اقدامكم (محمد: ۸) اے مومنو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو یقینا تمہیں اس کی مدد حاصل ہو جائے گی اور جب اس کی مدد حاصل ہوگی تو تمہیں ثبات قدم بھی مل جائے گا۔یہاں اِنْ تَنْصُرُوا اللہ کا فقرہ استعمال کیا گیا ہے اور مفردات راغب ہمیں بتاتی ہے کہ جب قرآن کریم نے یہ محاورہ استعمال کیا ہو کہ انسان اگر اللہ کی مدد کرے۔وہ اللہ جو کہ قادر مطلق اور غنی اور بے نیاز ہے اس کو اللہ کی مدد ملتی ہے تو جب یہ محاورہ استعمال کیا گیا ہو کہ جو شخص اللہ کی مدد کرے تو یہ نتیجہ نکلے گا یا وہ نتیجہ نکلے گا تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کا محتاج ہے بلکہ اس کے معنی ہوتے ہیں۔اول یہ کہ اس کے بندے کی مدد کرے۔دوسرے یہ کہ اس کے دین کی مدد کرے۔تیسرے یہ کہ اپنی مدد کرے اللہ کی قائم کردہ حدود کی حفاظت کرنے سے اپنی مدد کرے اس عہد کی رعایت کرنے سے جو اس نے اپنے رب سے باندھا ہے پس اللہ کی مدد کرنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اللہ کے احکام کا جوا اپنی گردن پر رکھ لے اور جن باتوں سے اللہ نے اسے روکا ہے ان سے وہ بچے ، یہ معنی ہیں اللہ کی مدد کرنے کے اور یہی معنی جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں صبر کرنے کے ہیں۔یعنی صبر اور نصرت ایک مفہوم کے لحاظ سے قریباً ہم معنی ہیں تو اللہ تعالیٰ اگر چہ یہاں نصرت کا لفظ استعمال کرتا ہے لیکن اس معنی میں استعمال کرتا ہے جس معنی میں صبر کے لفظ کو بھی استعمال کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں