انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 342
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۴۲ سورة البقرة ہمارے اس حکم کی تعمیل کرنا چاہو کہ صبر سے کام لو تو تمہارے لئے ضروری ہو کہ خدا کے حضور جھکو کہ اے خدا! تو نے ہمیں ( ان تمام معانی میں جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے ) صبر کرنے کا حکم دیا ہے لیکن ہم کمزور ہندے جانتے ہیں اور تو بھی جانتا ہے کہ اپنے طور پر صبر کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں اس لئے تو ہماری مددكر - وَمَا صَبْرُكَ إِلا بالله کے تقاضا کے مد نظر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھا دی کہ ربنا افرغ علينا صبرا الخ اے ہمارے رب! ہمیں کمال صبر عطا کر کیونکہ خود ہی دوسری جگہ فرمایا تھا۔وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللہ اللہ کی مدد کے بغیر صبر نہیں ہو سکتا۔صبر کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ کی مدد کو اگر ہم اپنے الفاظ میں حاصل کرنے کی کوشش کریں تو الفاظ کے نقص کی وجہ سے شاید اس کو پانہ سکیں۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی دعا کے ذریعہ صبر کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور چونکہ خدا تعالیٰ کے کلام میں جو دعائیں ہوتی ہیں وہ کامل ہوتی ہیں اس لئے اس کامل دعا کے نتیجہ میں اگر ہم خلوص نیت کے ساتھ اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ اس دعا کو کریں اس حقیقت اور ان معانی کو سمجھتے ہوئے جو اس میں بیان کئے گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ دعا ہمارے حق میں پوری ہو جائے گی اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خود وہ دعا سکھا دی یہ بتانے کے بعد کہ وَمَا صَبُوكَ إِلَّا بِاللهِ صبر خدا کی مدد کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔اللہ کی مدد کیسے حاصل کرنی ہے؟ خدا تعالیٰ کہتا ہے دعا میں تمہیں سکھا دیتا ہوں جو یہ ہے۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبرًا اب اس سے فائدہ اُٹھانا تمہارا کام ہے اور اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمُ (النحل : ۱۲۸) کہ جب خدا کی مدد اور خدا کے فضل سے اس دعا کی قبولیت کے نتیجہ میں جو صبر کے حصول کے لئے ہم نے تجھے سکھائی ہے تو صبر کی طاقت پائے تو ولا تَحْزَنْ عَلَيْهِم دشمن کے جو حالات ہیں وہ تجھے اس غم میں نہ ڈالیں کہ کہیں اسلام کو وہ نقصان نہ پہنچا دیں اور جو تدبیریں وہ کرتے ہیں ان کی وجہ سے تو کوئی تکلیف محسوس نہ کرے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میری ہدایت کے مطابق تم صبر کرو گے تو میں تمہارے اس غم کو دور کرنے کے سامان پیدا کر دوں گا کہ کہیں دشمن اپنی مخالفانہ تدابیر میں کامیاب نہ ہو جائے اور تمہیں دل کے اس درد اور دل کے اس احساس سے بھی نجات دے دوں گا کہ منا يمكرُونَ (النحل: ۱۲۸) ان کی جو سازشیں ہیں ان سے اسلام کو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو کہیں نقصان نہ پہنچ جائے۔نہ ان کے مکر کامیاب ہوں گے نہ ان کے منصوبے اپنی مراد کو پہنچیں گے۔اگر تم میری ہدایت کے مطابق صبر سے کام لو گے اور اس صبر کو دعا کے