انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 332
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳۲ سورة البقرة جو شخص اپنے مال کے بھروسے پر اور اس کو ذریعہ بنا کر خدا تعالیٰ کے منصوبہ کو نا کام کرنے کی کوشش کرے، جب ایسے گروہ سے دولت اللہ تعالیٰ واپس لیتا ہے تو بڑھا کے دینے کا تو سوال نہیں پیدا ہوتا۔یہ تو سزا ملی ہے ان کو۔تو ویبضط کے بھی دو معنی ہوں گے یعنی ایک ذکر جس کا نہیں کیا لیکن اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں کہ وہ بڑھاتا ہے اور ساتھ اس کے یہ کہ وہ چاہے تو نہیں بھی بڑھاتا“۔اور جن کا مال وہ لیتا ہے اور اپنے فضل اور اپنی رحمت سے یہ مالی قربانی وہ قبول کرتا ہے اور اس قربانی کو قبول کرنے کے نتیجہ میں سبط وہ ان کی دولت کو ، ان کے اموال کو ، مادی اموال کو بھی ، مادی دولت کو بھی ۱ ص وو اور روحانی طور پر بھی جو نعمتیں ہیں ان میں وہ برکت ڈالتا ہے اور بہت بڑھوتی ہے ان میں۔یہ جو میں نے دوسری زندگی کے متعلق کہا ہے کہ وہ بھی اس میں شامل ہے اس کی طرف یہی آیت اشارہ کر رہی ہے کیونکہ اسے ختم کیا ( چھٹی بات یہ بتائی)۔آخر تمہیں اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔وَاللهُ يَقْبِضُ وَ يَبْقُطُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ اور جب اس کی طرف لوٹا یا جائے گا تو جو اموال خدا نے تمہارے قبول کئے ہوں گے۔جب تم پیش کرو گے اللہ تعالیٰ قبول کرے گا۔جب قبول کرے گا ان میں بڑھوتی کرے گا۔جب بڑھوتی کرے گا تو اس زندگی میں بھی وہ اس کا بدلہ دیتا ہے لیکن مرنے کے بعد جو ہے بدلہ وہ تو اس قدر حسین اور وسعتیں رکھنے والا ہے کہ عَرْضُهَا السَّمواتُ وَالْأَرْضُ (ال عمران : ۱۳۴) کہ آسمان وزمین کی دولت ایک آدمی کی جنت کی دولت کے برابر ہے۔خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۴۷۰ تا ۴۷۴) آیت ۲۴۸ وَقَالَ لَهُمُ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِحًا قَالُوا إِلى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللهَ اصْطَفْهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَةَ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ b وَالْجِسْمِ وَاللهُ يُؤْتِى مُلكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ 66 (۲۴۸ ہمارے ہاں کہتے ہیں اللہ مالک ہے یہ محاورہ بڑا پیارا ہے حقیقت یہی ہے کہ اللہ ہی مالک ہے۔اللہ کے سوا وہ کونسی ہستی ہے جو کسی چیز کی بھی مالک ہو اور جو بھی غلبہ اور طاقت ملتی ہے وہ خدا تعالیٰ سے ہی