انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 331
" ٣٣١ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث واپس کر رہے ہیں اور بالکل وہ رقم جو اس نے چندے میں دے دی تھی اس کا چیک دیا۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک چھپی ہوئی دولت جو تھی وہ اس کو لوٹا دی اور عملاً ذہنی لحاظ سے اس کو کوئی کوفت یا تکلیف بھی نہیں ہوئی۔یہ بھی تکلیف نہیں اللہ تعالیٰ نے پہنچائی کہ میں نے آہستہ آہستہ بنک کو جو قرض واپس کرنا ہے وہ کیسے کروں گا؟ بہت ساری جگہ لمبا سلسلہ چل پڑتا ہے قرض کی ادائیگی میں اور وہ دے دیا۔بہت ساری مثالیں ہیں ایسی۔تو تیسری بات اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جو شخص اپنے مال کا ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دیتا ہے خدا تعالیٰ فیضعِفَهُ لَه أَضْعَافًا كَثِيرَةً ( یہ میں اب ترجمہ نہیں کر رہا، مفہوم بیان کر رہا ہوں ) بہت بہت اضافہ کر کے اس کا مال اسے لوٹاتا ہے۔يه أَضْعَافًا كَثِيرةً دورنگ میں سامنے آتا ہے۔ایک اس دنیا میں ، اس زندگی میں اور ایک مرنے کے بعد۔مرنے کے بعد جو فدائیت اور ایثار خدا تعالیٰ قبول کر لیتا ہے اس کا بدلہ جو ہے وہ تو ساری دنیا بھی اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتی۔اتنی دولت ہے وہ اتنی قیمت ہے اس عطا کی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (پہلے تو مومنوں کو کہا نا مَنْ ذَا الَّذِی میرے حضور قربانی پیش کرے گا قرضا حَسَنا کی شکل میں۔پھر بشارت دیتا ہے کہ میں اسے بڑھاؤں گا۔جیسا کہ میں نے ذرا مختصر تفصیل سے بتایا یعنی اختصار بھی ہے تھوڑی تفصیل بھی ہے ) کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔يَقْبِضُ وَ يَبْطُ کہ اس دنیا میں جو اموال خدا بندوں کو دیتا ہے وہ لیتا ہے، دیتا بھی ہے اور اسے بڑھاتا بھی ہے۔یہاں لیتا بھی ہے ( یہ عربی کا محاورہ ہے، قرآن کریم کی بہت ساری آیات سے بھی یہ ہمیں پتہ لگتا ہے ) کے معنی ہم یہ کریں گے۔وہ لیتا بھی ہے اور کبھی نہیں بھی لیتا۔بعض دوسری جگہ اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بس دنیا کے ہور ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے اچھا! پھر دنیالےلواور ان کو انذار یہ ہے کہ آخری زندگی میں پھر جو تمہارا حال ہو گا خدا کی پناہ۔پھر تمہیں پچھتاوا ہوگا کہ کیوں ہم نے یہ حرکت کی۔تو اللہ تعالی بعض سے نہیں لیتا ، بعض سے لیتا ہے، جن سے وہ لیتا ہے ان کی شکل دو طرح سامنے آتی ہے، دو شکلیں بنتی ہیں۔ایک یہ کہ یبط جو مال لیتا ہے اس میں بڑھوتی کرتا ہے اور ایک یہ شکل ہے کہ مال لیتا ہے اور بڑھوتی نہیں کرتا۔سزا کے طور پر ہو تو وہ انعام نہیں نا ملتا۔دو