انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 326
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۲۶ سورة البقرة دیئے تھے کہ میں جو بھی کام کرتا رہا اس کے نتیجہ میں مجھے مال میں فراخی نصیب ہوئی لیکن اب اس قسم کے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ گو کام میں اب بھی وہی کرتا ہوں جو پہلے کرتا تھا لیکن اب مجھے وہ نفع نہیں ہوتا جو پہلے ہوتا تھا۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل قادر ذات جو اپنے ارادہ کے ساتھ اس دنیا میں تصرف کر رہی ہے وہ میری ہی ذات ہے اور کوئی نہیں میں ہی ہوں جو تقسیم پیداوار کے سلسلہ میں ایسی تاریں ہلا دیتا ہوں کہ ایک شخص کے پاس وہی کاروبار ہوتا ہے وہی سرمایہ ہوتا ہے لیکن اس قسم کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ پہلے وہ بہت کما رہا ہوتا ہے اور اب وہ کم کمانے لگ جاتا ہے۔اس کی برکت اللہ تعالیٰ کسی دوسرے کو دے دیتا ہے اور اس کو حاصل ہونے والا نفع اب دوسرے کو ملنا شروع ہو جاتا ہے۔لاہور میں ہم کچھ عرصہ رہے ہیں وہاں ہم نے دیکھا کہ کبھی کوئی ریسٹورنٹ مقبول ہو جاتا تھا اور کبھی کوئی ایک ریسٹورنٹ کی مینجمنٹ (Mangement) اور انتظام بھی وہی ہوتا تھا۔عمارت بھی وہی ہوتی تھی۔فرنیچر بھی وہی ہوتا تھا باقی سہولتیں بھی وہی ہوتی تھیں۔اس کے کھانا پکانے والے بھی وہی ہوتے تھے۔اور ایک عرصہ تک وہ ہوٹل اپنے مالکوں کے لئے بہت زیادہ آمد کا موجب بنا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکدم کوئی ایسی تبدیلی پیدا ہو جاتی جو انسان کے اختیار اور سمجھ سے باہر ہے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی مقبولیت جاتی رہی۔لوگوں نے وہاں جانا چھوڑ دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ مالک کو وہ ہوٹل بند کرنا پڑا اگر انسان اپنے ماحول پر گہری نظر ڈالے اور فکر و تدبر سے کام لے تو اسے اس قسم کی سینکڑوں مثالیں مل سکتی ہیں کوئی ظاہری سبب نظر نہیں آتا لیکن یکدم برکت چھن جاتی ہے۔اسی طرح بعض اوقات اموال اور کاروبار میں برکت دے دی جاتی ہے اور اس کا کوئی ظاہری سبب نہیں ہوتا۔ایک انسان عرصہ تک ابتلاء اور مصائب میں مارا مارا پھرتا ہے اور بڑی تکلیف میں زندگی گزارتا ہے ایک دن اللہ تعالیٰ اس پر رحم کر دیتا ہے اور اس کے اموال اور اس کے کاروبار میں برکت ڈال دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس پر فراخی اور کشائش کا دور آجاتا ہے ابھی چند دن ہوئے مجھے اس قسم کی بھی ایک مثال ملی ہے ایک دوست مجھے ملنے کے لئے آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ میں ایک غریب گھرانہ کا فرد ہوں میری آمد بہت کم تھی اور گزارہ مشکل سے ہوتا تھا لیکن ایک دن اللہ تعالیٰ نے کچھ اس قسم کی تبدیلی پیدا کر دی کہ اب میرے کاروبار میں برکت ہی برکت ہے اور خدا تعالیٰ بہت کچھ دے رہا ہے میری غربت اور افلاس کی حالت دور ہوگئی