انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 325 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 325

تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۳۲۵ سورة البقرة اسے کہتا ہے بھائی مجھے اس میں سے تین ہزار روپیہ بطور قرض حسنہ دے دو۔میں چند ماہ کے بعد اسے واپس کر دوں گا تو اب یہ تین ہزار روپے خرچ تو نہیں ہوئے اس کے پاس دس کا دس ہزار ہی رہا۔کیونکہ یہ تین ہزار بھی کچھ عرصہ کے بعد اسے واپس مل جائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہو وہ خرچ نہیں ہوتا۔نہ وہ ضائع ہوتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ نے قرض کے طور پر لیا ہے وہ اسے واپس کرے گا اور پھر اس شان سے واپس کرے گا جو ایک قادر اور رزاق خدا کے شایان شان ہے۔ص وَاللهُ يَقْبِضُ وَيَبْقَطُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ میں اللہ تعالیٰ نے تین بڑے لطیف مضامین بیان کئے ہیں۔يَقْبِضُ وَيَبْقُطُ کے ایک معنی ہیں۔يَسْلُبْ قَوْمًا وَيُعْطِي قَوْمًا (المفردات راغب كتاب القاف صفحه (۳۹) یعنی جسے چاہے غریب کر دیتا ہے اور اس کا مال لے کر دوسرے کو دیتا اور اسے امیر کر دیتا ہے۔دوسرے معنی یہ ہیں۔يَسْلُبُ تَارَةً وَيُعْطِي تَارَةً (المفردات راغب كتاب القاف صفحه ۳۹۱) یعنی جب چاہے ایک شخص کا مال چھین لیتا ہے اور جب چاہے پھر اسے اموال عطا کر دیتا ہے۔تیسرے معنی قبض کے یہ ہیں۔تَنَاوُلُ الشَّنِی بِجَميعِ الْكَلِ (المفردات راغب كتاب القاف صفحه ۳۹۱) گویا اس آیت میں يَقْبِضُ وَ يَبقُط اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کی گئی ہے اور پہلے معنی کی رو سے اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا اظہار ایک بنیادی اقتصادی مسئلہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جسے اقتصادیات میں تقسیم پیداوار کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی ملک کی پیداوار آگے مختلف افراد کے ہاتھوں میں کس طرح پہنچے گی اور ملکی پیداوار کی تقسیم کے متعلق آزاد اقتصادیات میں بھی اور ایک حد تک بندھی ہوئی اور مقید اقتصادیات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک وقت تک ایک شخص جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتا ہے سونا بن جاتی ہے لیکن پھر بغیر کسی ظاہری سبب اور وجہ کے اس شخص پر فراخی کی بجائے تنگی آ جاتی ہے وہی شخص ہوتا ہے وہی سرمایہ ہوتا ہے۔وہی حالات ہوتے ہیں وہی کا روبار ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس سے برکت چھین لیتا ہے وہ جہاں بھی ہاتھ ڈالتا ہے اسے نقصان ہی نقصان ہوتا ہے اس کی مالی حالت تباہ ہو جاتی ہے اور وہ مفلس و قلاش ہو جاتا ہے ابھی چند دن ہوئے ایک دوست مجھے ملنے کے لئے آئے۔وہ تاجر ہیں انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک وقت تھا اللہ تعالیٰ نے میرے اموال اور میرے کاروبار میں برکت ڈال دی تھی اس نے مجھے وافر رزق دیا تھا اور اس قسم کے حالات پیدا کر