انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 324
۳۲۴ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث جب دیکھا کہ اس طرح عورتوں کی صحت تباہ ہو رہی ہے تو پھر کہہ دیا کہ اس میں فائدہ ہے اور پھر اب حال ہی میں یہ کہہ دیا کہ بچے کے نوے فیصد سے زیادہ ذہنی قومی دو سال کے اندر نشو ونما پاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دو سال تک اس کو بہترین غذا ملنی چاہیے تا کہ اس کے دماغ کی بہترین نشوونما ہو اور بہترین غذا ماں کا دودھ ہے۔پس قرآن کریم کی تعلیم پر لوگوں نے اعتراض شروع کر دیئے پھر وہ اعتراض واپس لے لئے۔پھر خود ہی ریسرچ کی اور قرآن کریم نے جو پر حکمت تعلیم دی تھی اسکی تائید میں باتیں کرنی شروع خطبات ناصر جلد ۵ صفحه ۴۹۵ تا ۴۹۷) کردیں۔آیت ۲۴۶ مَنْ ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَةَ ص اَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللهُ يَقْبِضُ وَيَبْطُ وَالَيْهِ تُرْجَعُونَ۔کیا کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے مال کا ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر بطور قرض دے تا کہ وہ اس مال کو اس کے لئے بہت بڑھائے اور اللہ ہی ہے جو بندہ کے مال میں تنگی یا فراخی پیدا کرتا ہے اور آخر تمہیں اس کی طرف لوٹایا جائے۔اللہ تعالیٰ کے حضور تم جو مال بھی پیش کرتے ہو وہ اس کا ہے اس سے تم نے لیا اور اسی کو پیش کر دیا۔اپنے پاس سے تو تم نے کچھ نہیں دیا۔نہ تمہارا مال اپنا، نہ تمہاری جان اپنی ، نہ عزت اپنی ، نہ وقت اپنا، اور نہ عمر اپنی ، غرض تمہارا اپنا کچھ بھی نہیں۔محض خدا تعالیٰ کی دین تھی۔اللہ تعالیٰ نے ہی یہ سب کچھ تمہیں دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے تم پر فضل کیا جیسا کہ وہ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اگر تم میری دین اور میری عطاء میں سے کچھ مجھے دو گے تو میں تمہیں اس کا ثواب دوں گا دراصل غور کے ساتھ دیکھا جائے تو ہماری سب عبادتیں اللہ تعالیٰ کی سابقہ عطاؤں پر بطور شکر کے ہوتی ہیں۔یہ محض اس کا فضل ہے کہ وہ ادائے شکر پر مزید احسان کرتا ہے اس طرح شکر اور عطائے الہی کا ایک دور اور تسلسل قائم ہو جاتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ دیتے ہو تو وہ اسے بطور قرض کے لیتا ہے اور قرض دی ہوئی رقم خرچ نہیں سمجھی جاتی دیکھو اس دنیا میں بھی ایک بھائی دوسرے بھائی کو قرض دیتا ہے مثلاً ایک شخص کے پاس دس ہزار روپیہ ہے اس کا بھائی