انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 323 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 323

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۲۳ سورة البقرة اللهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ اسی طرح عورتوں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہے۔انسان نے ایک وقت میں یہ کہہ دیا کہ اس کے بڑے فائدے ہیں دوسرے وقت میں کہہ دیا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔جب کہا ماں کا دودھ پلانے کے فائدے ہیں یا جس نے کہا فائدے ہیں تو اس نے گویا قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہا کیونکہ دودھ بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور ہر چیز میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے فائدہ رکھا ہے اسلئے ظاہر ہے کہ ماں کی چھاتیوں کے دودھ میں بچے کے لئے فائدہ ہے۔مگر جب اس دودھ کو بے فائدہ قرار دے کر عورتوں کی ایک یا دو نسلوں کی صحتیں اپنی تھیوریز اور اصول بیان کر کے اور اُن پر عمل کروا کر خراب کر دیں تو پھر انسان نے بڑے آرام سے یہ کہہ دیا کہ اوہ ہو! ہم سے غلطی ہوگئی تھی۔اب تو ہماری نئی ریسرچ یہ ہے کہ اگر ماں بچے کو دودھ نہ پلائے گی تو نہ بچ صحتمند ہوگا اور نہ زچگی کے بعد ماں کی صحت عود کرے گی۔اور یہ سب کچھ اس انداز میں کہا کہ گویا انسان نے ہلاکت کا کوئی کام ہی نہ کیا تھا۔میں پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم نے جو فیملی پلاننگ ( خاندانی منصوبہ بندی ) کی ہے اس کی اپروچ (Approach) اور طریق تعلیم آجکل کے سائنسدانوں ، ڈاکٹروں اور سیاستدانوں سے بالکل مختلف ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جو شخص اپنے بچے کی رضاعت کو مکمل کروانا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ دو سال تک بچے کو ماں کا دودھ پلائے اور دودھ پلانے کے زمانہ میں عورت کو حمل نہیں ہونا چاہیے۔اس طرح دو بچوں کے درمیان قریباً ۳ سال کا وقفہ پڑ جاتا ہے۔اب کل ہی ایک دوست ملنے کے لئے آئے تو انہوں نے ایک کتاب کا ذکر کیا جو حال ہی میں چھپی ہے اور جس میں بتایا گیا ہے کہ بچے کی نوے فیصد سے زیادہ ذہنی طاقتیں دو سال کے اندر بتدریج ترقی کر رہی ہوتی ہیں گویا نوے فیصد سے زیادہ ذہنی طاقت پہلے دو سال کے اندر نشو ونما پاتی ہے اور یہی وہ زمانہ ہے جسے قرآن کریم نے رضاعت کا زمانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ماں بچے کو دو سال تک دودھ پلائے۔دودھ ویسے بھی بڑی اچھی غذا ہے لیکن ماں کا دودھ بچے کی نشو و نما کے لئے بہترین غذا ہے مگر ایک وقت میں ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طرح ماں بھی بیمار ہو جائے گی اور بچے کو بھی فائدہ نہ ہوگا۔