انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 318
۳۱۸ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اور اپنے پیار سے اپنے بندے کو نوازتا ہے۔تو انسان خدا کا جو ذکر کرتا ہے وہ صحیح ذکر صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ اس کی صفات کا علم ہو اور صفات کے علم کے لئے ہر قسم کی تحقیق ( علمی تحقیق جو ہے وہ ضروری ہے یعنی جو خدا نے پیدا کیا اس کی عظمت جاننے کی کوشش کرنا اس کی جو پیدائش ہے اس کے دست قدرت سے جو چیز نکلی ہے اس میں بھی بڑی عظمت ہے اس میں بھی بڑا حسن ہے اس میں بھی بڑی افادیت ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہر ضروری چیز کو پیدا کیا۔جب تک ان چیزوں کا علم نہ ہو۔صحیح طور پر انسان اپنی فطرت پر اپنی صفات پر اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ چڑھا نہیں سکتا۔تو خالی یہ نہیں کہا کہ ذکر کرو بلکہ ذکر کا طریقہ بھی بتایا کہ ذکر کا مطلب یہ ہے۔ایک بچے کا سُبحان اللہ کہناذ کر کی ابتدا تو کہلا سکتا ہے مگر ذکر نہیں کہلا سکتا یا ایک کم علم اور ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرنے والے بالغ انسان کا سُبحان اللہ کہنا تو اب تو ہے لیکن خدا تعالیٰ جس رنگ میں اس سے پیار کرنا چاہتا ہے وہ پیار اس کو بھی حاصل ہو سکتا ہے جب وہ خدا تعالیٰ کے حسن اور اس کے رنگ کو پہچانے اور اس کی عظمت اور اس کا جلال اور اس کی رفعت اور اس کی شان جو ہے اور اس کی قدرتوں کے جو جلوے ہیں اور ان میں جو حسن ہے اور جو احسان خدا تعالیٰ بے شمار شکلوں اور صورتوں میں ایک فرد واحد کی ذات پر کر رہا ہے اس کا علم اسے حاصل ہوتا ہے۔تب اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کا ایک چشمہ پھوٹتا ہے جس سے وہ بھی سیراب ہوتا ہے اور اس کا خاندان اور نسل بھی سیراب ہوتی ہے اور بہت سارے دوسرے بھی اس سے فائدہ اٹھانے والے بن جاتے ہیں۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ جود نیوی علوم ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔اسلام یہ کہتا ہے کہ دنیوی علوم کی ہر برانچ ہر شعبہ کا جاننا اس لئے ضروری ہے کہ اگر تم مومن ہو اور خدا کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو تو جب تک تمہیں ان باتوں کا علم نہیں ہو گا تم خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت بھی حاصل نہیں کر سکتے مثلاً ستاروں کا علم ہے،افلاک کا علم ہے تو یہ سمجھنا کہ رات کو بچے بھی دیکھتے ہیں۔بچپن میں میرے خیال میں ہر بچہ کبھی سوچتا ہو گا کہ میں گنوں کتنے ستارے مجھے نظر آ رہے ہیں جو گن نہیں سکتا بالکل چھوٹی عمر میں بچے کہہ دیتے ہیں (ماں یا باپ کو) کہ مجھے یہ ستارہ لا کے دو۔یعنی ان کو پتا کچھ نہیں ہوتا لیکن نظر آ رہا ہے۔لیکن جب تک افلاک کا یہ علم نہ ہو کہ کس قدر وسعت خدا تعالیٰ کی اس پیدائش میں ہے جس کو ہم زمین و آسمان کہتے ہیں اب تک جو علم انسان نے بہت دور دیکھنے والی دور بینیں ہیں ان سے حاصل کیا ہے اور وہ سائنس کے نئے