انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 26 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 26

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۶ سورة الفاتحة دیکھنے والی زندگی ، ایک وہ جنت ہے۔تو رحیمیت کا تعلق اخلاقی استعدادوں سے ہے اور جو اوپر کی منزل ہے سب سے اور جو مطلوب ہے پیدائش انسان کا وہ روحانی طاقتیں ہیں۔روحانی طاقتیں دیں تا کہ انسانی روح جو قائم رہنے والی ہے اپنے مقصود کو پالے یعنی خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق اس کا قائم ہو جائے اور اس کے پیار کو ہمیشہ پالینے والی بنے۔اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فیضان اخص کہتے ہیں۔مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی یہ صفت ہے اور ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی صفت کا فیضان فیضان احص ہے اور یہ استحقاق کے بعد ثمرہ عطا کرنے والی سند ہے۔جزا ملتی ہے اس سے اور استحقاق پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے رحم کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی رحیمیت جو ہے اس نے ایسے سامان پیدا کئے کہ انسان اپنے لئے خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کا استحقاق حاصل کر لیتا ہے اور ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے نتیجہ میں شمر مل جاتا ہے، خالی استحقاق نہیں۔اب دیکھونا اس دنیا میں بہت سارے ایم۔اے، بی۔اے ہیں جن کو نوکری کوئی نہیں ملتی لیکن نوکری کا حق ہے ان کا ملتی نہیں۔تو رحیمیت استحقاق پیدا کر دیتی ہے مالکیت یوم الدین اس کو وہ شمرہ دے دیتی ہے وہ صفت فیضان اخص کی۔آپ فرماتے ہیں:۔اس کے دو پہلو ہیں۔وسیع اور کامل طور پر عالم معاد ( یعنی مرنے کے بعد جو زندگی ہے ) میں یہ صفت متجلی ہوتی ہے، اس کا جلوہ ظاہر ہوتا ہے اور دوسرے اس عالم میں بھی ، یہ جو ہماری دنیا، اس عالم کے دائرہ کے موافق یہ چاروں صفتیں جس میں مالک یوم الدین بھی ہے بجلی کر رہی ہیں اور انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمانی رفعتوں تک پہنچاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی رحمت کے سایہ میں لا بٹھاتی ہیں۔قرآن کریم میں ایک جگہ یہی جو ہے ایک حرکت انسان کی یا تنزل کی طرف یا روحانی طور پر رفعتوں کی طرف اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے تو اسے رفعت دینے کا ارادہ کیا تھا لیکن وہ زمین کا کیڑا بن گیا۔تو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں زمین کا کیڑا بن جانے سے محفوظ رکھے اور جو اس کی خواہش ہے کہ ہم اس کے پیار کو اپنے مقبول اعمال صالحہ کے نتیجہ میں حاصل کریں ، اس میں وہ ہمیں کامیاب کرے۔آمین۔