انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 25
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث تجزیہ اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔۲۵ سورة الفاتحة پھر آپ فرماتے ہیں صرف انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نطق عطا کیا۔جس طرح میں اس وقت بول رہا ہوں اور جو بھی میرے خیالات ہیں وہ بیان کے ذریعے آپ تک پہنچارہا ہوں ، اس کو کہتے ہیں نطق عطا کیا۔صرف انسان کو نطق عطا کیا اس معنی میں۔اشارے کرتے ہیں جانور بھی ایک دوسرے کو۔مثلاً کو اکائیں کائیں کر کے دوسرے کو وں کو کہتا ہے خطرہ ہے، اڑ جاؤ یہاں سے۔لیکن وہ بولنا نہیں ، وہ نطق نہیں ہے وہ تو رحمانیت کے اندر آ جاتی ہے چیز۔آپ فرماتے ہیں۔اس لئے ( یہ میں بیچ میں لے آیا ہوں ویسے مضمون سے تعلق نہیں رکھتا لیکن ایک بہت ہی لطیف بات یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ) انسان کا دعا کرنا ( یہ اچھی طرح سمجھیں۔بعض لوگ دعا کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اصل میں تو چوبیس گھنٹے انسان کو دعا میں گزارنے چاہئیں) اس کی انسانیت کا ایک خاصہ ہے جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔تو جو ہماری فطرت کہتی ہے کہ ہم ہر ضرورت ، حاجت، تکلیف یا ایک خواہش کے پورا ہونے کا خیال جب آئے تو ہم ایک خالق اور مالک ، سب قدرتوں والے خدا کی طرف رجوع کریں۔آپ فرماتے ہیں۔رحیمیت کے ذریعہ سے استحقاق پیدا ہوتا ہے، جز انہیں ملتی یعنی ایسے سامان پیدا ہو گئے کہ پھر وہ روحانیت میں ترقی کرے جنت میں جائے اور اس کو جزا ملے۔ثمرہ اعمالِ صالحہ حقیقتا پورے طور پر وہاں ملتا ہے۔یہاں بھی مل جاتا ہے اس دنیا میں بھی۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ دو جنتیں ہیں۔ایک کا تعلق چھوٹی سی ، محدودی، کم وسعت والی جنت جس کا تعلق ہماری زندگی سے ہے اس ورلی زندگی سے اور ایک وہ جہاں اللہ تعالیٰ کا پیار پوری عظمتوں کے ساتھ ، انسان کی صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق ظاہر ہوگا اور ہر قسم کے خوف و ہراس سے محفوظ زندگی ، خوشحال زندگی ، امن والی زندگی ، سلامتی والی زندگی، پیار والی زندگی ، دکھوں سے محفوظ زندگی اس کو عطا ہوگی اور نہ ختم ہونے والی زندگی ہمیشہ ایک مقام پر نہ شہر نے والی زندگی، خدا تعالیٰ کے پیار میں ہمیشہ زیادتی