انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 311
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ٣١١ سورة البقرة پلیٹ اور رکابی میں اتنا سالن نہ ڈالو کہ اس میں سے ایک لقمہ بھی ضائع ہو جائے کیونکہ کھانے کا جو لقمہ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہے وہ تمہارا نہیں تم تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھا رہے تھے اس نے تمہیں اس لقمہ کو ضائع کرنے کا اختیار نہیں دیا غرض کھانے کے ایک لقمہ کا ضیاع بھی خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نا پسند کیا ہے کجا یہ کہ لاکھوں روپیہ کی املاک کو ضائع کر دیا جائے۔پس دوسرے کی املاک کو نقصان پہنچانے یا ان پر قابض ہو جانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا یہی وجہ ہے کہ کوئی ایک مہینہ ہوا میں نے اعلان کیا تھا کہ ربوہ میں ہر وہ دکان دار یا مکان والا جس نے غیر کی زمین پر (جو نہ تو اس کی ذاتی ملکیت ہے اور نہ اس نے وہ کرایہ پر لی ہے ) دکان یا مکان بنایا ہوا ہے تو اسے اپنا وہ مکان یا دکان ۳۰ / نومبر تک اٹھا لینی چاہیے اور یہ میعاد اس لئے دی گئی تھی کہ ایسا کرنے پر کچھ وقت لگتا ہے اور ایسا حکم نہیں ملنا چاہیے جو طاقت سے بالا ہو اعلان کرتے وقت میرا اندازہ تھا کہ اس عرصہ میں ایسی دکانیں اور مکان اٹھائے جا سکتے ہیں اور کاروبار سمیٹے جا سکتے ہیں اب تو رمضان کی ذمہ داری بھی آگئی ہے رمضان کے مقدس مہینہ میں خصوصاً کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ جلسہ سالانہ کے بابرکت ایام میں اس بات کی اجازت کسی کو دی جاسکتی ہے کہ قرآن کریم کے احکام کے خلاف دوسرے کی ملکیت پر نا جائز تصرف قائم رکھے ابھی تک جور پورٹ مجھے ملی ہے وہ یہی ہے کہ دوست اس طرف متوجہ ہوئے ہیں اور انشاء اللہ کل ۳۰ ر نومبر تک یعنی وقت کے اندراندرنا جائز طور پر تعمیر کردہ دکانیں اور مکانات خالی کر دیئے جائیں گے جو ایسا نہیں کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے اس انذار کے مطابق کہ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (القصص :۷۸) یعنی اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے خلفاء اس کے صلحاء اور نیک بندوں کی محبت سے محروم ہو جائے گا اور اگر کوئی ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت دے امید تو یہی ہے کہ ایسا ہم میں سے کوئی نہیں نکلے گا۔فساد جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ وَاِذَا تَوَلّى سعى في الْأَرْضِ اس سے مراد روحانی اور مذہبی فساد بھی ہے جب ملک میں بدامنی کے حالات پیدا کر دیئے جائیں تو وہ لوگ جو اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کی یاد میں اور اس کے ذکر میں خرچ کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی روحانی غذا کے حصول کی طرف اپنی توجہ اس طرح قائم نہیں رکھ سکتے جس طرح وہ دوسرے حالات میں رکھ سکتے ہیں ان کے لئے