انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 310
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ٣١ سورة البقرة کسی شکل میں بھی وہ ہمارے محبوب کو محبوب نہیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں فرماتا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ جب وہ باتیں کرتے ہیں تو ان کی باتیں پسندیدہ معلوم ہوتی ہیں وہ ملک اور قوم کے خیر خواہ دین کے بھائی اور خدا سے پیار کرنے والے سمجھے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ - یعنی جب بھی اسے موقع اور طاقت ملے وہ فساد پیدا کرنے کی غرض سے سارے ملک میں دوڑتا پھرتا ہے اور اس طرح حرث اور نسل کو ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کے بہت سے معنی ہو سکتے ہیں۔ایک معنی یہ بھی ہیں ایسا شخص جو خود کو ملک اور قوم کا ہمدرد اور خیر خواہ ظاہر کرتا ہے ان ذرائع اور اسباب پر ضرب لگاتا ہے جو دنیوی لحاظ سے قومی تعمیر کے کام آنے والے ہیں اور اُخروی لحاظ سے وہ کسی کو ان جزاؤں اور ان انعامات کا وارث کرتے ہیں جن کے لئے خدا تعالیٰ کا ایک مومن بندہ اس دنیا میں اس امید پر ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھ کر کھیتی کو کاٹے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْأَخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ - (الشورى: ۲۱) * کہ جو شخص آخرت کے انعامات کے لئے اس دنیا میں کام کرتا ہے اسے بہت ملے گا اس نے جو کام کئے ہیں ان سے بھی بہت زیادہ ملے گا اور جو اس دنیا کے لئے کام کرتا ہے اسے بھی ہم عام قانون کے ماتحت محروم نہیں رکھیں گے اس کو بھی ہم اس دنیا میں اس کے کام کا اجر دیں گے۔لغت نے یہاں حرث کے معنی تعمیری کاموں کے بھی کئے ہیں یعنی ایسے کام جن کے نتیجہ میں ملک اور قوم کی تعمیر ہوتی ہے پس جو لوگ قوم کی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں توڑ پھوڑ کے ذریعہ یا لوٹ کے ذریعہ یا کوئی اور خرابی پیدا کرنے کے نتیجہ میں، وہ خدا تعالیٰ کے اس حکم کو توڑنے والے ہیں کیونکہ جہاں عقل، اخلاق اور قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی دوسرے کی املاک کو یا قومی املاک کو نقصان پہنچایا جائے وہاں شریعت اسلامیہ اس سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ اس بات سے روکتی ہے کہ ان اموال کو نقصان پہنچایا جائے جو دوسروں کے ہیں یا خود اپنے ہیں کیونکہ اموال کے متعلق اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ اصل ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے اسی لئے اسلام نے خود کشی کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس نے کہا ہے کہ جان تیری نہیں جان تو خدا کی ہے تجھے کس نے حق دیا ہے کہ تو جان کو لے چاہے وہ تیری اپنی ہی کیوں نہ ہو اور اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی