انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 309
٣٠٩ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ذرائع پیداوار اور ان سے کما حقہ مستفید ہونے کے لئے۔دو۔انسانی قوتیں اور استعداد یں۔ایک کو قرآن کریم کہتا ہے حرث اور دوسرے کونسل۔ایک وہ ہے جس کو انسان تیار کرتا ہے۔پھر اس سے کچھ حاصل کرتا ہے۔بعض دفعہ اچھی نیت سے بعض دفعہ بری نیت سے بہر حال انسان جس چیز کو تیار کرتا ہے اس سے پیار کرتا ہے۔مثلاً زمین کو تیار کرتا ہے تا کہ اس سے گندم حاصل کرے، کپاس حاصل کرے وغیرہ وغیرہ۔وہ کارخانوں کو تیار کرتا ہے کارخانے بھی مادی چیزوں کی تیاری کی جگہ ہیں۔کچھ اینٹیں ہیں، کچھ لوہا ہے، کچھ مشینری ہے۔یہ ساری چیزیں مل کر کارخانے کی شکل اختیار کرتی ہیں۔تا کہ انسان اس سے مثلاً کپڑا پیدا کرے یا اس سے کھاد پیدا کرے یا لوہا پیدا کرے یا اس میں موٹریں بنائے۔وغیرہ۔اب تو بے شمار قسم کی چیزیں بنے لگی ہیں۔بے شمار سے مراد یہ ہے کہ ہم ان کو گن نہیں سکتے۔اللہ تعالیٰ کو تو ان سب کا علم ہے۔غرض ایک مادی ذرائع پیداوار اور دوسرے انسانی استعداد یں۔یہ دو بنیادی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمائی ہیں اور ایک مفسدان دونوں کی ہلاکت کا موجب بنتا ہے یا ہلاکت کی کوشش میں مشغول نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مفسد بھی بنو یعنی جو مادی ذرائع پیداوار ہیں ان کو تم ہلاک کرو۔ان کو تم ضائع کرو۔دوسرے جو تمہیں استعداد یں دی ہیں ان سے تم غفلت بر تو اور ان کی نشوونما نہ کرو۔ان کا صحیح استعمال نہ کرو اور پھر یہ سمجھو کہ میں تمہارے ان بد اعمال اور مفسدانہ اعمال کا صالحانہ اعمال جیسا نتیجہ نکال دوں گا تو یہ خیال غلط ہے۔ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ مفسدوں سے پیار نہیں کرتا یعنی جو لوگ حرث اور نسل کو فساد میں مبتلا اور معرض ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کا پیار تو نہیں ملے گا۔اس کے نتیجہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کا قہر ملے گا۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی جہنم انہیں ملے گی۔اللہ تعالیٰ کا پیار اور اس کی رضا کی جنتیں تو ان کو نہیں ملیں گی۔خطبات ناصر جلد چهارم صفحه ۳۲۱ تا ۳۴۲) قرآن کریم کا ایک حکم یہ ہے کہ فساد نہ کرو اور قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کر نے والوں سے پیار نہیں کرتا بلکہ ایسے لوگ اس کے غضب کے نیچے آجاتے ہیں فساد کے لغوی معنی ہیں حد اعتدال سے نکل جانا معنی کی اس وسعت کے لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم کے ہر حکم سے بغاوت فساد ہے کیونکہ قرآن کریم کا ہر حکم استقامت اور اعتدال پر قائم رکھتا ہے فساد کئی شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے اور