انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 308 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 308

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة البقرة اتنے پیسے نہیں رہے کہ وہ کپڑا خرید سکے۔پھر وہ کہے گا کہ میں پانچ دن اور مزدوری کرتا ہوں تا کہ بچوں کے کپڑے بن جائیں۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں تک عزت کا تعلق ہے لوگ فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں یعنی ذرائع پیداوار سے انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر جتنی پیداوار حاصل کر سکتا ہے اس کے راستے میں وہ روک بن جاتے ہیں۔انسانی طاقتوں اور قوتوں کے استعمال میں مخل ہوتے ہیں۔اس لئے کہ ذرائع پیداوار کے ساتھ جب تک محنت شامل نہ ہو اس وقت تک کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔چنانچہ انسانی قوتوں اور استعدادوں کے تعطل کی وجہ سے انسان کو گویا بھوکا مار دیا۔اس کی قوتوں کی نشوونما میں روک پیدا کر دی۔اس کا جتناد ماغ تھا اس کے مطابق اس کے لئے سامان نہیں پیدا کئے۔مثلاً ایک غریب آدمی ہے اس کے گھر ایک ذہین بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔دسویں تک تو وہ اسے جوں توں کر کے پڑھاتا ہے مگر پھر اس کی غربت آڑے آتی ہے بچے کو پڑھائی چھوڑنی پڑتی ہے۔اب وہ لڑکا جو مثلاً ڈاکٹر سلام کا ہم پلہ بن سکتا تھا اس کا دماغ اور اس کی ذہانت ضائع ہو جاتی ہے۔وہ کلر کی کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔ہمارے پھوپھا جان حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ دھوبی کے لئے اشتہار دیا تو ایک بی۔اے یا ایم۔اے پاس کی درخواست آگئی وہ تو خیر پڑھ گیا تھا پھر بھی اس کو ملازمت نہ ملی لیکن کسی بیچارے کو تو مزید پڑھنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔پس یہ نسل کشی ہے۔نسل کشی کا صرف یہی مطلب نہیں ہوتا کہ غلط فیملی پلاننگ کی جائے یا بیٹیوں کو زندہ گاڑ دیا جائے یا انہیں بھوکا رکھ کر مار دیا جائے یا جس طرح بعض ظالم عیسائی بادشاہ کیا کرتے تھے کہ پہلے وہ عیش کرتے اور پھر نا جائز بچوں کو قتل کر کے تہہ خانوں میں پھنکوا دیتے یہ اور اس طرح کے ہزاروں ظلم ہیں جو انسان انسان پر کر رہا ہے۔غرض قوتوں اور استعدادوں کا ضیاع بھی نسل کشی ہے۔اللہ تعالیٰ نے در حقیقت بنیادی طور پر ہمیں دو ہی چیزیں دی ہیں اور ایک ایسی بڑی نعمت ہے جو نہ ہمارے تصور میں آسکتی ہے اور نہ اس کی وسعتوں کا احاطہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر اللہ تعالیٰ کا کما حقہ شکر ادا کیا جاسکتا ہے۔ایک تو انسان کے اندر یعنی انسانی فطرت کے اندر جو استعدادیں پیدا کیں اور ان استعدادوں کی کامل نشوونما ہے۔تسخیر کائنات کے لئے اور دوسرے انسان کی بہبود کے لئے تخلیق کا ئنات یعنی اس عالمین کی مادی اشیاء یا ذرائع پیداوار ہیں۔یہ دونوں چیزیں ہیں یعنی مادی