انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 305
۳۰۵ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کے معنے ہوں گے کہ انسان کی وہ قوتیں اور طاقتیں جن سے اس کے اعمال خود بخو د فطری بہاؤ کے ساتھ سرزد ہوتے ہیں مثلاً ایک صاف شفاف اور ٹھنڈے اور لذیذ پانی کے چشمے سے جس طرح پانی خود بخود بہہ نکلتا ہے اسی طرح انسان کے اعمال اس کی طاقتوں سے خود بخود بہہ نکلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی نے ہمیں جو طاقتیں اور استعداد میں دی ہیں جتنا جتنا ہم ان کا استعمال کرتے اور ان کی نشو و نما کرتے چلے جاتے ہیں اتنا اتنا وہ چشمہ سے بہنے والے پانی کی طرح خود ہی فلو آؤٹ (Flow out) یعنی اہل کر باہر نکل رہی ہوتی ہیں اور اسی معنی میں نسل کا لفظ استعمال ہوتا ہے یعنی انسانی قوتوں اور استعدادوں سے افعال اور اعمال خود بخودسرزد ہونے لگتے ہیں مثلاً مال ہے، روپیہ پیسہ ہے سوائے چند کنجوس لوگوں کے جو دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں باقی لوگ اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں۔روپیہ خرچ کے ذریعہ خود بخود ہماری جیبوں سے علیحدہ ہوتا رہتا ہے۔اب مثلاً آپ اپنے بچے کو پڑھانے کے لئے استاد مقرر کرتے ہیں اور اسے روپے دیتے ہیں تو گویا اس طرح آپ کے ہاتھ سے روپیہ نکل گیا یا مثلاً گندم ہے آپ اسے کھاتے ہیں اسے کنزیوم (Consume) کر جاتے ہیں گندم کی شکل میں کھاتے ہیں اس سے آپ کو مثلاً چلنے کی طاقت مل گئی آپ نے آٹھ میل سیر کی۔کچھ طاقت آپ کے جسم سے نکل گئی۔انسانی وجود کے اندر ساری قوتیں بند تو نہیں رہتیں۔وہ انسانی جسم سے باہر نکل رہی ہوتی ہیں۔غرض جسمانی طاقتوں کے آؤٹ فلو (Out flow) کو باندھ دیا ہے نشوونما کے ساتھ۔ہم جتنا جتنا ان طاقتوں کو استعمال کرتے ہیں اتنا ہی یہ چیزیں نشود نما میں مد و معاون بن جاتی ہیں۔پس بنیادی طور پر یہی دو چیزیں اس دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر رہی ہیں مثلاً ایٹم کی ایجاد ہے۔ایٹم پاور کی ایجاد ہے۔دوسری مادی چیزیں ہیں جنہوں نے مختلف شکلیں اختیار کر رکھی ہیں۔پھر یہ ساری یو نیورس ہے۔یہ ذرائع پیداوار کی علامت ہے۔ذرائع پیداوار کے اندرنسل یعنی انسانی طاقتیں تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں اور اس طرح یہ کام کی چیزیں بن رہی ہیں۔گویا آسمان سے لے کر زمین تک ہم نے انسانی ہاتھ کا تصرف دکھا دیا مثلاً انسان چاند پر پہنچ گیا۔اب چاند پر پہنچنے کے لئے آسمان سے کوئی اڑن کھٹولا تو نہیں آگیا تھا۔یہ انسان کی استعداد میں اور قو تیں تھیں جو پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہی تھیں یعنی سائنس دانوں نے فزکس کے اصول پر سائنسی تحقیق کی ان قواعد اور قوانین کے مطابق عمل کیا جو خدا تعالیٰ نے بنائے ہوئے ہیں تو وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہو گئے۔اب مثلاً جو