انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 301 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 301

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ٣٠١ سورة البقرة اتنی تھوڑی سی رقم کی خاطر اپنی موت کو دعوت نہیں دے گا۔فساد کرنے پر وہی شخص آمادہ ہوگا جسے یا تو بہکایا، ورغلایا گیا ہو یا جس کے حقوق تلف کئے گئے ہوں اور اس کو اس حالت میں کر دیا گیا ہو کہ وہ فساد میں کود پڑے یعنی خدا تعالیٰ نے اس کی جو حالت بنائی تھی اس کو بدل کر اس حالت میں کر دیا جائے کہ وہ مجبوراً پیسے لے کر فسادی گروہ میں شامل ہو جائے۔اب یہ تو ظلم ہے کہ جنہوں نے دوہرا گناہ کیا وہ تو چھوڑ دیئے جائیں لیکن جو در حقیقت معصوم تھے وہ گولیوں کا نشانہ بن جائیں۔ویسے ہم تو خدا تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں۔اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے۔اس کا علم کامل ہے وہ جانتا ہے کہ کون فسادی ہے اور کون نہیں ہے لیکن بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ایسے شخص کا بھی گناہ کا منشاء نہیں ہوتا بلکہ وہ دھوکے میں آجاتا ہے۔جس طرح حضرت آدم علیہ السلام شیطان کے دھوکے میں آگئے تھے یہ مزدور بیچارے بھی دھوکے میں آجاتے ہیں اور بعض اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔بهر حال يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ میں يُهْلِكَ کے یہ تین معنے ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ اس وقت صرف ہمارے ملک ہی میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کی حالت ہمیں نظر آتی ہے۔قرآن کریم کی اس پیشگوئی کے مطابق ہمیں ہر جگہ فتنہ وفساد دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مفسد ہے وہ ہلاکت کے سامان پیدا کرتا ہے۔چنانچہ اردو میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص ہلاکت کے سامان پیدا کرتا ہے یا عربی زبان میں کہیں اهلک تو اس کے تین معنے ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ جن چیزوں پر ان کا ( مزدور کا حق تھا اور جو ان کو ملی تھیں وہ ان سے چھین لی جائیں اور وہ کسی اور ا کے پاس چلی جائیں۔یہ معنے آج کی دنیا پر چسپاں ہوتے ہیں۔دوسرے معنے کچھ تھوڑے سے اختلاف اور شاخوں کے ساتھ تَحَوَّلَ مِنْ حَالٍ إلى آخر اور صَارَ مَحَالًا کے لحاظ سے یہ ہیں کہ مفسد ہلاکت کے اسباب پیدا کر دیتے ہیں جن کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا۔جن سے اللہ تعالی پیار نہیں کرتا بلکہ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔تیسرے معنے موت کے ہیں۔مفسد بے گناہوں کی موت کے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔غرض تینوں معنوں میں ہلاکت کا لفظ اس دنیا کے فساد کے ماحول پر چسپاں ہوتا ہے لیکن آگے ہلاکت کے بنیادی طور پر عقلاً اور مشاہدۂ دومفعول بن سکتے ہیں ایک حرث " کی ہلاکت اور دوسرے نسل کی ہلاکت۔عربی زبان کے لحاظ سے حرث کے جو معنے ہیں وو 66