انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 299
۲۹۹ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث أَهْلَكَ يا ( الْهَلَ) کے تیسرے معنے موت کے ہوتے ہیں۔یعنی انسانی زندگی میں بنیادی تبدیلی کا رونما ہونا ہم تو روح کو زندہ سمجھتے ہیں ہم روح اور مادی اجزاء کے ملاپ کو دنیوی زندگی سمجھتے ہیں۔اس ملاپ کے نتیجہ میں ایک نئی چیز پیدا ہوتی ہے اور وہ انسان ہے جسے اس دنیا کا عقل اور شعور دیا گیا ہے۔جب انسان کی یہ کیفیت باقی نہ رہے تو اس پر موت وارد ہو جاتی ہے۔البتہ جسم کے ذرے بالکل ضائع نہیں ہو جاتے یہ موت والی ہلاکت بھی ایک خاص معنی میں استعمال ہو سکتی ہے۔چنانچہ اسی واسطے امام راغب نے اس کو علیحدہ تیسری شکل میں ہمارے سامنے رکھا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ صلاح کا دعویٰ کرنے والے بڑے بڑے لوگ ہیں۔یہ در حقیقت دنیا میں فساد کرنا چاہتے ہیں۔یہ ہر قسم کی (ہر سہ معنی میں ) ہلاکت کی تدبیریں کرتے ہیں۔ایک یہ کہ جن لوگوں کا کسی چیز کا حق بنتا ہے ایسے سامان پیدا کر دیتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں وہ چیز نہ رہے یعنی وہ چیز تو قائم رہے مگر جس کا اس پر حق تھا اس کے پاس نہ رہے دوسرے یہ کہ جو چیز ان کے پاس ہواس کے اندر خرابی پیدا ہو جائے جیسا کہ مثلاً ( ذرا سوچنے کی بات ہے ) بلیک مارکیٹنگ ہے۔یہ کھانے میں پیدا ہونے والی خرابی تو نہیں لیکن انسان کے ہاتھ میں مثلاً نقدی ہے اس میں یہ خرابی پیدا ہوگئی کہ پہلے ایک روپے میں مثلاً تین سیر آٹا ملتا تھا مگر بلیک مارکیٹنگ کے نتیجہ میں اسی روپے سے ڈیڑھ سیر آٹا ملتا ہے۔پس اس روپے کا جو استعمال اور استفادہ ہے اس کے اندر خرابی پیدا ہوگئی۔گو یہ دال کے ابلنے والی خرابی تو نہیں ہے مگر روپے کی قدر یا قیمت میں خرابی کے مترادف ضرور ہے۔پھر یہ کہ ایسی صورت میں صلاح کی بجائے فساد کی حالت پیدا ہو جاتی ہے مثلاً یہ کارخانوں کی جو تالہ بندی ہے اس سے بھی فساد پیدا ہوتا ہے۔اس سے صلاح کی حالت فساد کی حالت میں بدل جاتی ہے۔اس ہے اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے مزدوروں کو کام کرنے کی جو قو تیں اور طاقتیں عطا فرمائی ہیں کارخانے داران کا وہ حق ادا نہیں کر سکتے۔مگر جتنا وہ کام کر سکتے تھے تالہ بندی کے نتیجہ میں اس کے دروازے بھی الٹے بند ہو گئے۔دوسرا کام ان کو کوئی ملا نہیں تو ظاہر ہے وہ خود بھوکے رہیں گے۔ان کے بچے بھوکے رہیں گے جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔حالت صلاح کی بنیادی کیفیت یہ ہے کہ حقوق ادا ہوں لیکن جس مزدور کے اوپر تالہ بندی کے نتیجہ میں کام کا دروازہ بند کر دیا گیا تو ایک طرف اس کی طاقتوں اور قوتوں کی نشو و نمارک گئی دوسری طرف اس کے حقوق کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اور