انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 24
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۴ سورة الفاتحة زیادہ ذہن رکھتے ہیں، فوری نتیجہ نکالا۔شکاری جانتے ہیں کہ ہرن جب شکاری کے سامنے جھاڑیوں میں سے نکل کے آتا ہے تو اسے ایک سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگتا یہ نتیجہ نکالنے میں کہ یہاں مجھے خطرہ ہے اور اس پھرتی سے وہ گھومتا اور پھر جھاڑیوں میں غائب ہو جاتا ہے۔اس کا تعلق ذہن سے ہی ہے نا۔اس کے گھٹنوں سے یا اس کے پیروں سے یا اس کے سینگوں سے تو نہیں اس کا تعلق۔لیکن سب سے زیادہ ذہن اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کیا۔بہر حال رحمانیت کا تعلق جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فیضان عام فرمایا ، تمام حیوانات سے ہے کیونکہ اس کا تعلق ذہنی صلاحیتوں سے ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصہ ملا۔ہر چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے۔اس واسطے انسان کو ایسا ذہن ملا کہ اس کا ئنات کی ہر چیز سے جو اس کی خدمت پر مقرر کی گئی ہے فائدہ اٹھا سکے اور کام لے سکے۔رحمانیت کا تعلق ذہنی صلاحیتوں سے ہے۔رحیمیت کا تعلق اخلاقی استعدادوں سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اسے فیض خاص کہتے ہیں اور اس کا تعلق صرف انسان سے ہے۔صرف انسان ہے جو با اخلاق یا بداخلاق ہے۔جب مثلاً شکاری پر ریچھ حملہ کرتا ہے (ایسے علاقوں میں شکاری جاتے ہیں جہاں ریچھے رہتے ہیں، ان کے شکار کے لئے ) تو کبھی انسان ریچھ کا شکار کر لیتا ہے کبھی ریچھ انسان کا شکار کر لیتا ہے۔تو جب ریچھ حملہ کرتا ہے انسان پر تو کوئی دنیا کا انسان اسے بد اخلاق نہیں کہتا۔اسے خونخوار جانور تو کہتا ہے لیکن اخلاق کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔وہ اس کی فطرت جو ہے، رحمانیت نے جو اس کو ایک دیا ہے کہ جہاں خطرہ ہے اس کا مقابلہ کر اپنی زندگی بچانے کے لئے ، اس لئے وہ حملہ کرتا ہے لیکن اس کو ہم اچھے خلق والا یا بداخلاق نہیں کہہ سکتے۔جو مرغی آپ ذبح کر کے کھا جاتے ہیں اسے نہیں کہہ سکتے کہ بڑی اچھی ، اخلاق والی دیکھو انسان پر قربان ہوگئی۔مرغی کا اخلاق کے ساتھ کیا تعلق؟ اخلاق کا تعلق صرف انسان سے ہے اور خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت سے ہے اس لئے کہ اب یہاں قائم رہنے والی روح کا ایک بنیادی ہلکا ساتعلق ہو گیا پیدا۔یعنی ایک ایسا فعل جس کے نتیجہ میں استحقاق پیدا ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کا۔ملتا نہیں لیکن حقدار بن جاتا ہے یعنی اخلاقی نشود نما، روحانی نشو ونما کے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ رحیمیت کے معنی یہ ہیں کہ رحمن خدا لوگوں کی دعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور