انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 289
۲۸۹ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث بھی جو دنیوی حسنات میں شامل ہے انہوں نے بہت ترقی کی۔مثلاً زراعت ہے اس میں مسلمانوں نے بہت ترقی کی۔سپین میں مسلمانوں نے بڑی ترقی کی اگر چہ مسلمانوں کو وہ ملک چھوڑنا پڑا اور اس وقت ان پر بڑا ظلم ہوا لیکن اپنے زمانہ حکومت میں انہوں نے درختوں پر بعض ایسے پیوند کئے جو حیرت انگیز تھے۔انہوں نے بادام وغیرہ کے درختوں پر گلاب کا کامیاب پیوند کیا چنانچہ جس طرح آڑو اور بادام کے بڑے بڑے درخت ہوتے ہیں اسی طرح وہاں گلاب کے درخت تھے جن پر گلاب کے پھول لگتے تھے۔غرض شجر کاری اور پھول اُگانے اور ترکاریاں وغیرہ لگانے کے میدان میں مسلمانوں نے جو ترقی کی اس کو دیکھ کر اب بھی دنیا حیران رہ جاتی ہے۔یہ بھی ایک حیرت انگیز دنیوی حسنہ ہے جو اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۲۸۷ تا ۲۹۰) کوشش کے ساتھ ساتھ اسلام نے دعا کرنے پر بھی زور دیا اور یہ دعا سکھادی ربنا اتنا في الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ اس دعا میں صرف یہی نہیں کہا کہ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ بلکہ آخرت کی بھلائی کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھلائی چاہنے کی بھی دعا سکھلا دی۔ظاہر ہے دُنیا کی حسنات ہم نے دنیوی مخلوقات سے حاصل کرنی ہیں۔انہی سے فائدہ اٹھا کر اپنی آخرت سنوارنی ہے۔اس لئے اسلام نے یہ اعلان کیا کہ مذہب افیون نہیں ہے۔وہ شخص بڑا بیوقوف ہے جو یہ کہتا ہے کہ مذہب اسلام بھی افیون کا کام دیتا ہے۔اسلام نے تو یہ کہا ہے کہ دنیا کی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے اور انسان کی خدمت پر لگا رکھی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق کہ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ الا مَا سَعى (النجم : ٤٠) کی رو سے انسان کو اتنا فائدہ ملے گا جتنا وہ اسکے لئے کوشش کرے گا۔تب سَعْيَة سَوْفَ يُرى (النجم : ۳۱) کی رو سے اور عام قانون کے مطابق کوشش نتیجہ خیز ہوگی۔انسان کو محنت کا پھل مل جائے گا ایک شخص مثلاً ہزار یونٹ کوشش کرتا ہے اس کو ہزار یونٹ کا پھل مل جاتا ہے۔میں عام تقدیر کے مطابق بات کر رہا ہوں جو اس دُنیا میں کارفرما ہے خاص تقدیریں جن کو ہم معجزات کہتے ہیں اُن کے متعلق میں بات نہیں کر رہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ افیون کھا کر سونہ جانا اور تقدیر کا یہ مطلب نہ لینا کہ ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر تم نے اپنی جھولیاں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق سے فائدہ اُٹھا کر بھرنی ہیں تو تمہاری جھولیاں تبھی بھریں گی جب تم اس کے لئے محنت، کوشش