انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 288
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۸۸ سورة البقرة تجارت صرف ساکھ پر قائم ہے مثلاً یہاں کا آدمی انگلستان سے مال منگواتا ہے اور انگلستان والا پاکستان سے مال منگواتا ہے یا اس سے بھی دور دراز کے علاقے ہیں وہاں سے سامان آتا اور جاتا ہے۔اگر اس میں دیانتداری سے کام نہیں لیا جائے گا تو شاید عارضی طور پر کچھ فائدہ ہو جائے لیکن انجام کار پریشانیاں اٹھانی پڑیں گی۔انکوائریاں ہوں گی۔مقدمے چلیں گے۔پس مستقل کامیابی اس قسم کی بددیانت تجارت میں ہمیں نظر نہیں آتی۔تجارت کے لئے فراست کی بھی ضرورت ہے اور یہ تو ہے ہی اللہ کی عطا اور دعا ہی سے مل سکتی ہے یا دعا سے قائم رہ سکتی ہے۔ایک بزرگ صحابی جو کسی زمانے میں مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں پیٹ پر پتھر باندھ کر پھرتے تھے مگر بعد میں ان کے اموال میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت ڈال دی اور وہ اسی کتاب کی وجہ سے تھی جسے خدا تعالیٰ نے نازل کیا اور فرمایا فِیهِ ذکر کر اس میں تمہاری بزرگی اور شرف کے سامان رکھے گئے ہیں۔پس صحابہ رضوان اللہ علیہم کو جو بزرگی اور عزت حاصل ہوئی تھی وہ اس کتاب کے ذریعہ لی تھی۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اور خدا سے برکات حاصل کر کے تجارت میں بھی فراست پائی تھی چنانچہ اس بزرگ صحابی کے متعلق آتا ہے کہ جب مدینہ میں اموال آئے اور وہاں بڑی دولت جمع ہوگئی اور تجارت کی ایک بہت بڑی منڈی بن گئی تو اس منڈی میں ایک صبح کو کچھ تجار ایک لاکھ اونٹ لے کر آگئے تو انہوں نے جا کر سودا کیا۔ان کے دوست ایک اور صحابی نے کہا میں باہر گیا ہوا تھا میں نے ان اونٹوں کو باہر دیکھا تھا لیکن چونکہ اس بات کی اجازت نہیں کہ منڈی میں آئے بغیر سودے ہوں اس لئے میں نے ان سے کوئی بات نہیں کی لیکن میری نیت یہ تھی کہ جب یہ اونٹ منڈی میں آجائیں گے تو میں خریدوں گا لیکن تم پہلے پہنچ گئے اس لئے تم نے خرید لئے۔انہوں نے کہا کہ اب تم لے لو۔کہا کس دام پر۔بولے جس دام میں میں نے لئے ہیں سوائے اس کے کہ ان کی تکمیلیں مجھے دے دو۔تو اگر ایک نکیل کی قیمت ایک روپیہ ہو تو چند منٹوں میں ان کو ایک لاکھ روپے کا فائدہ ہو گیا۔اگر نکیل اٹھنی سمجھ لی جائے تب بھی پچاس ہزار روپے کا فائدہ ہو گیا۔پس جو خدا دادفراست ہے اس کا اثر دنیوی مال و دولت کی تجارت میں بھی نظر آتا ہے۔اس کا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کے ساتھ تعلق ہے۔تاریخ اسلام میں ہمیں اس قسم کی کئی مثالیں ملتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کی تجارت بھی خوب چھمکی اور اسی طرح ہر دوسری چیز میں