انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 287 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 287

۲۸۷ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث دعا بھی کرو۔چنانچہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کے الفاظ میں خدا نے خود ہی دعا بھی سکھا دی اور چونکہ دنیا کی اس مختصری زندگی کے بعد ایک نہ ختم ہونے والی اُخروی زندگی ملنی ہے اس لئے ساتھ ہی وَ في الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ أخر وى حسنات کے ملنے کا بھی ذکر کر دیا اور پھر وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے الفاظ میں اُخروی زندگی کی تکالیف سے بچنے کا بھی ذکر ہے۔بہر حال جب ہم دنیوی لحاظ سے سوچتے ہیں تو اسلامی تعلیم ہمارے لئے دنیوی حسنات اور شرف اور بزرگی کے سامان پیدا کرتی ہے بشرطیکہ انسان کی تدا بیر دعاؤں کی بنیاد پر استوار ہوں۔دنیوی حسنات میں سے مثلاً تجارت ہے۔اسلام میں تجارت کے جو اصول بتائے گئے ہیں ان پر عمل پیرا ہو کر تجارتیں کامیابی سے چلتی ہیں۔اگر چہ کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت تو دعا ہے لیکن اس کے جو دوسرے اصول بتائے ہیں ان کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔مثلاً دیانت داری ہے اسلام نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ لین دین میں دیانت داری سے کام لو اور کوئی کھوٹ نہ ہو نہ طبیعت میں کھوٹ ہو اور نہ مال میں تو اس سے تجارت خوب چمکتی ہے۔چنانچہ دنیا کی تجارت کی تاریخ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تجارت میں وہی افراد اور قو میں کامیاب نظر آتی ہیں جن کی ساکھ قائم تھی۔وہ جو کچھ کہتے تھے اس کے مطابق مال سپلائی کرتے تھے لیکن اگر یہ ساکھ نہ ہو تو تجارت چل نہیں سکتی۔مثلاً چند دن ہوئے اخبار میں یہ خبر آئی تھی کہ فیصل آباد میں حکومت نے مسالے بنانے والی ایک کمپنی پر چھاپہ مارا تو اخبار کے کہنے کے مطابق انہیں پتا لگا کہ ایک من ہلدی میں صرف تین سیر ہلدی ہے اور باقی گند ڈالا ہوا ہے۔پس یہ جو تجارتی بددیانتی ہے اور اشیاء خوردنی میں کھوٹ کی ملاوٹ ہے اس سے تجارت چمکتی نہیں۔اسی لئے جن خطوں میں تجارتی لحاظ سے بددیانت دماغ ہیں ان کی تجارت کا گراف اس طرح بنتا ہے کہ شروع میں وہ بڑی دیانتداری کے ساتھ اچھی طرح گاہکوں کو دیتے ہیں لیکن جب ان کی تجارت چمک اٹھتی ہے تو پھر وہ دھوکا دہی کے ذریعہ سے پیسے کمانے لگتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر وہ دیوالیہ ہو جاتے ہیں کیونکہ جب لوگوں کو پتہ لگتا ہے کہ مثلاً ہلدی کے علاوہ اس میں مضر صحت چیزیں بھی پڑی ہوئی ہیں تو لوگ ایسا مال نہیں خریدیں گے۔آج کی دنیا میں ترقیات کا ایک بہت بڑا حصہ بین الاقوامی تجارت سے وابستہ ہے اور بین الاقوامی