انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 285
۲۸۵ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دفعہ آٹھ گنا زیادہ ہوتی تھیں۔اگر پانچ گنا زیادہ بھی ہوں اور ساڑھے سات گھنٹے لڑائی ہو دن میں تو ہر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد نئی تازہ دم فوج مسلمان کے سامنے آجائے گی اور ایک مسلمان ساڑھے سات گھنٹے لڑتا رہے گا ہر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد تازہ دم فوج میں سے کسرئی اور قیصر کی فوجوں کا ہر سپاہی صرف ڈیڑھ گھنٹہ لڑے گا۔مسلمان سپاہی ساڑھے سات گھنٹے ان کے مقابلہ میں لڑ رہا تھا۔یہ شکل بنی لڑائی میں۔میں نے بڑا سوچا اور بڑا ہی حیران ہوا ہوں کہ کس قدر صحت اور عزم ایک مسلمان کو خدا تعالیٰ نے دیا۔اگر عزم ہوا اور صحت نہ ہو تو کچھ نہیں ہوسکتا۔اگر صحت ہو اور عزم نہ ہو تو کچھ نہیں ہوگا۔میں نے کہا ہے کچھ ہو نہیں سکتا۔اب میں کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گا تو ان کو صحت بھی دی خدا نے۔عزم بھی دیا خدا نے۔تو صحت جسمانی دنیوی حسنہ ہے اس دنیا سے جسم کا تعلق ہے۔خدا کہتا ہے مجھ سے مانگو صحت اس لئے نہیں کہ عیاشی میں اسے ضائع کرو گے اس لئے مانگو کہ میری راہ میں اس کو خرچ کرو گے اور میرے پیار کو حاصل کرو گے۔ہر دنیوی نعمت کی ایسی ہی مثال ہے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔صحت کے علاوہ عزت ہے، دنیوی مال و دولت ہے۔دنیا کی اولاد ہے خاندان ہیں، عافیت کی فضا ہے وغیرہ وغیرہ۔ہر چیز جو ہے خدا کہتا ہے مجھ سے مانگو لیکن مجھ سے لے کر میری خوشنودی کے لئے میری بتائی ہوئی راہ پر اسے خرچ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کی تفسیر یہ کی ہے کہ انسانی تجربہ بتاتا ہے کہ جہنم اس دنیا کی بھی ہے۔جہنم وہ بھی ہے جو مرنے کے بعد ہے (اللہ محفوظ رکھے )۔خدا تعالیٰ ان پر اپنے قہر کی بجلی نازل کرنا چاہے گا جہنم میں بھیج دے گا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ انسان کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس ورلی زندگی کے ساتھ طرح طرح کے عذاب اور تکلیفیں لگی ہوئی ہیں۔خوف کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔خون خرابہ لڑائی ہو جاتی ہے۔یہاں میں بعض دفعہ کھیتوں کے کنارے، زمیندار آدھے مرلے پر بھی لڑ مرتے ہیں۔فقر وفاقہ کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ایک غربت ہے جو ورثہ میں ملتی اور آگے اگلی نسل کو ورثہ میں چھوڑی جاتی ہے۔ایک غربت ہے جو ایک امیر آدمی دیوالیہ ہو جاتا ہے اور وہ جو لاکھوں کا مالک ہوتا ہے وہ چند لقموں کے کھانے کی بھی توفیق نہیں رکھتا، مانگنا پڑتا ہے اس کو،۔بیماریاں ہیں، کوشش انسان کرتا ہے ، اس کے مختلف اور سینکڑوں میدان ہیں، ناکامیاں بھی سینکڑوں