انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 280 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 280

تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۸۰ سورة البقرة دور کیا جانا مومنوں کے دل کا مستقل سہارا ہے۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۱۴۱، ۱۴۲) آیت ۲۰۱، ۲۰۲ فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكرِكُمْ أبَاءَكُمْ اَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْأَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (٢٠٢ ترجمہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ کہتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس دنیا کے آرام و آسائش دے اور آخرت کے متعلق ان کو نہ کوئی یقین ہوتا ہے اور نہ دعائیں ہوتی ہیں نہ اس کے لئے کوشش ہوتی ہے۔ان کی ساری توجہ اور ان کے اعمال کا سارا دائرہ اس دنیا تک محدود رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخرت میں ان کا کچھ بھی حصہ نہیں ہوتا۔ایک تو لوگوں کا گروہ یہ ہے۔انسانوں کا ایک دوسرا گروہ ہے جو یہ دعا کرتا ہے۔فرمایا: ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا کی زندگی میں بھی آرام و آسائش اور کامیابی و فلاح عطا کر اور اُخروی زندگی میں بھی خوشحالی کے سامان ، کامیابی کے سامان اور اپنی رضا کے حصول کے سامان پیدا کر۔اس طرح پر ہر دو جنتوں کا ہمیں وارث بنا، دنیوی جنت کا بھی اور اُخروی جنت کا بھی اور ہر دو جہنم سے ہمیں محفوظ کر ، دنیوی جہنم سے بھی اور اُخروی جہنم کی آگ اور اس آگ کے عذاب سے بھی ہمیں بچا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ دوسری آیت وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً جو ہے، اس میں رَبَّنَا کا لفظ پورے پورے شعور کے ساتھ اور اس کے معنی کو سمجھتے ہوئے بولا گیا ہے اور اس میں تو بہ کی طرف اشارہ ہے۔اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ربنا اور مانگتے ہیں صرف اس دنیا کے آرام و آسائش کو ، نہ انہیں ربّ کی معرفت حاصل ہوتی ہے نہ اس کے معنی کو وہ پہچانتے ہیں اور نہ اپنے زندگی کے مقصود کا انہیں احساس ہوتا ہے اور نہ اس کے لئے وہ کوشاں ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے