انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 279
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۲۷۹ سورة البقرة نہیں کئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ تمہاری پر واہ کیا کرتا ہے۔تو وَمَا دُعَوُا الكَفِرِينَ الا فی ضَل کے مقابلے میں مومن کو یہ بشارت دی گئی کہ خدا تعالیٰ دعائیں قبول کرے گا۔یہ انداری پہلو مومن کے سامنے رکھا گیا کہ اگر دعا نہیں کرو گے خدا تعالیٰ تمہاری پرواہ نہیں کرے گا اور ان دو چیزوں کے بعد حکم دیا گیا اُدْعُوئی دعا کرو مجھ سے، میں قبول کروں گا۔یہ پہلی بشارت ہے جو بشری لِلْمُؤْمِنِينَ - بُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ کے ماتحت ملی۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۵۱ تا ۱۵۳) اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق جو بات اس وقت میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں قبول کرتا ہے ، سورۃ المؤمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لكُمْ (المؤمن: ۶۱ ) ( مجھے پکارو میں تمہاری دعا سنوں گا ) اسی طرح سورۃ البقرہ میں اس نے فرمایا أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة : ۱۸۷) (جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں) لیکن دعا کی قبولیت کے بارہ میں یہ امر یا د رکھنا چاہئیے کہ جب دعا اس کی تمام شرائط کے ساتھ کی جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی تمام حکمتوں کے ساتھ اسے قبول کرتا ہے۔یعنی ضروری نہیں کہ دعا اسی طرح قبول ہو جس طرح بندہ مانگتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ اس کی دعا کو اس شکل میں قبول کرتا ہے جو دعا کرنے والے کے حق میں بہتر ہو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دعا کرنے والے کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ہے۔پس دعا قبول ضرور ہوتی ہے لیکن ہوتی اس شکل میں ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں دعا کرنے والے کے لئے بہتر ہو نہ کہ اس شکل میں جس میں بندہ اپنی نادانی سے اس کے پورا ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔پھر سورۃ النمل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (القمل : (٦٣) یعنی بتاؤ کون کسی بے کس کی دعا کو سنتا ہے جب وہ خدا سے دعا کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے۔وَيَكْشِفُ السُّوءَ میں اللہ تعالی نے ایک عجیب بشارت دی ہے - اور وہ یہ کہ تم دعا کرتے چلے جاؤ ایک دن وہ ضرور قبول ہوگی۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان مضطر ہونے کی حالت میں دعا مانگے اور وہ قبول نہ ہو۔مضطر کی دعا کی قبولیت ایک نہ ایک دن ظاہر ہو کر رہتی ہے یعنی اس کی تکلیف بہر حال دور کر دی جاتی ہے۔پس السوء کا دعاؤں کے نتیجہ میں