انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 275

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۷۵ سورة البقرة ہوں کہ کفار کے لئے ٹھوکر اور گمراہی اور تجھ سے دور جانے کا ذریعہ بن جائیں۔ہمیں غیروں کے لئے اچھا نمونہ قائم کرنے کی توفیق عطا کر۔انسان کا اپنا نفس ہے وَ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ ( بخاری کتاب الصوم) اپنے نفس کے لئے بھی دعائیں کرنا ضروری ہے۔ورنہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعماء کو حاصل نہیں کر سکتا۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ شَيْتُ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقرة : ۲۵۱) اے ہمارے رب ہم پر قوت برداشت نازل کر صبر عطا کر اور ہمیں ثبات قدم عطا کر اور منکر مخالف کے خلاف ہماری مدد کر۔صبر کے معنی عربی زبان اور قرآنی محاورہ میں بڑے وسیع ہیں۔صبر کے معنی ہیں عقلی قوانین اور شریعت کے احکام کی روشنی میں اپنے نفس کو قابو میں رکھنا یہ ہے صبر اور مختلف شکلوں میں یہ ہماری زندگی میں ابھرتا ہے۔مثلاً اگر کوئی مصیبت نازل ہو جائے تو اس پر بھی صبر کرتا ہے انسان میدانِ جنگ ہو تو مومنانہ شجاعت کے مظاہرے کو عربی زبان اور قرآنی اصطلاح صبر کہتی ہے۔میدانِ جنگ میں اور ثبات قدم۔اگر قضا و قدر کے امتحان و ابتلا میں مبتلا ہو کوئی شخص جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تمہیں آزماؤں گا۔تو ایسے امتحان کے وقت بشافت قلب سے اس ابتلاء کو برداشت کرنا یہ بھی صبر ہے اور اپنی زبان کو قابو میں رکھنا یہ بھی صبر ہے۔بے موقع اور بے محل بات سے رکے رہنا۔زبان کو قابو میں رکھنا اس کو بھی صبر کہتے ہیں۔یعنی ہر پہلو سے جہاں نفس کو قابو میں رکھنا ہو عقل کے قانون کے ماتحت یا شریعت کے احکام کے نتیجہ میں۔عربی زبان اور قرآن کریم کی اصطلاح اسے صبر کہتی ہے۔تو ربَّنا افرغ عَلَيْنَا صَبرًا میں یہ دعا ہوئی کہ اے خدا! ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے نفس کو اس طرح قابو میں رکھیں کہ کبھی بھی وہ بے قابو ہو کر تیری ناراضگی مول لینے والا نہ بن جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۲۹۳ تا ۳۰۴) اس آیہ کریمہ میں روزہ کے متعلق ایک بڑے حسین پیرایہ میں ہمیں یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں صوم ( روزہ) کسے کہتے ہیں۔اس آیت کی تفسیر یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں روزہ رکھنے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانے کی اجازت ہے۔عرب کے دستور کے مطابق اور ان کے خیال کی رو سے روزے کے دنوں میں ایسا فعل رات کو بھی