انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 22
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۲ سورة الفاتحة ربوبیت کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے۔ہر چیز کو مناسب حال قو تیں عطا کیں اور ہر قوت کے مناسب حال غذا یا دوسری ضروریات جو ان کی نشوونما کے لئے چاہئیں تھیں وہ مہیا کیں۔انسانوں کے لئے خاص طور پر پیدائش نوع انسانی سے پتا نہیں کتنے کروڑ سال پہلے سے ایسی اشیاء کی پیدائش کا سامان کیا جو انسان کو کئی کروڑ سال بعد چاہیے تھا۔تو جو صفت ربوبیت ہے اس کا تعلق مخلوق کی ہر شے سے ہے۔رب کے معنی عربی میں ہیں پیدا کرنے والا اور صحیح نشوونما کے سامان پیدا کر کے کمال مقصود تک پہنچانے والا۔مثلاً ( عام مثال میں لے لیتا ہوں سب کو سمجھانے کے لئے ) ایک اچھا دنبہ چاہیے ایک صحت مند جسم کی صحت کو قائم رکھنے کے لئے تو دنبہ پیدا کیا اس نے اور اس کو صحت مند رکھنے کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت تھی وہ پیدا کر دی۔اس لئے کہ تمام اشیاء آخر کار انسان کی خدمت پر لگی ہوئی ہیں۔تو اسلام کہتا ہے کھیلو اس لئے کہ کھیلنے کے نتیجہ میں تمہارے اجسام کی تمہارے جسموں کی نشوونما اس طور پر ہو کہ تم وہ بوجھ برداشت کر سکو جو دوسری تمہاری صلاحیتوں کے نتیجہ میں تمہارے جسموں پر پڑنے والے ہیں۔۔۔۔۔۔تو یہ جور بوبیت ہے اس میں ہر چیز کے لئے ایسے سامان پیدا کئے گئے ہیں کہ جو اس کی صحیح نشوونما کریں انگلی صلاحیتوں کی، جو بعد میں بلندی کی طرف لے جانے والی ہیں۔تو جسمانی صحت کے بعد ذہنی قوتیں اور طاقتیں اور استعدادیں اور صلاحیتیں ہیں تو اسلام کہتا ہے کہ ایسی کھیلیں کھیلو کہ تمہارے جسم ذہنی طور پر صحیح اور بہترین نشو نما حاصل کر سکیں۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو چار بنیادی صفات اللہ تعالیٰ کی بیان کی ہیں، ان کے متعلق جو روشنی ڈالی ہے اپنی تفسیر میں مختصر میں اس کو لیتا ہوں کیونکہ اصل جوڑ میرے دماغ نے انہی کے ساتھ باندھا ہے ان باتوں کا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ( الفاظ میرے ہیں کیونکہ میں نے نقل نہیں کئے ، مفہوم نوٹ کیا ہوا ہے ) فرماتے ہیں کہ اللہ رب العالمین ہے یعنی پیدا کرنا اور کمال مطلوب تک پہنچانا تمام عالموں میں جاری وساری ہے۔اس میں انسان میں اور دوسری چیزوں میں فرق نہیں بلکہ حیوانات سے بھی آگے چلتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں یہ ربوبیت باری تمام ارواح واجسام حیوانات میں، نباتات میں، جمادات وغیرہ پر مشتمل ہے اسے آپ نے فیضانِ عام کا نام دیا اور یہ جو تقسیم کی ہے آپ نے ، نباتات