انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 21 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 21

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۱ سورة الفاتحة حقوق اسی کے ہیں جو ہمارا رب ہے جس کی رحمانیت کے ہم نے جلوے دیکھے ہیں جس کی رحیمیت کے پیار کو ہم نے محسوس کیا ہے جب اس کے سامنے ہم جائیں گے تو ہماری روح پکار رہی ہوگی کہ اے ہمارے رب ! ہمارا تجھ پر کوئی حق نہیں لیکن ہم تیرے فضل اور تیری رحمت کے بھکاری ہیں ہم اس کی صدا دیتے ہیں کہ اپنے فضل اور رحمت سے ہمیں نواز۔ہماری غفلتوں کو نظر انداز کر دے تو مالک ہے اگر ہم نے تیرا گناہ کیا اگر ہم نے کچھ خطائیں کی ہیں اگر ہم نے تیری دنیا میں وہ کیا جو تو نا پسند کرتا تھا تو آج اس دنیا میں مالک کی حیثیت سے ہمیں معاف کر دے۔مالک کا جلوہ جو ہے وہ حقیقی معنی میں حقیقی رنگ میں اس دنیا میں نظر نہیں آتا کیونکہ یہ پردے کی دنیا ہے اس لئے ضروری تھا کہ جزا سزا کا دن مقر رکیا جاتا اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے کامل اور مکمل اور اصفی جلوے کسی قسم کی کدورت کے بغیر وہ ہم پر ظاہر ہوتے ہیں اور پھر ہمیں وہ لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے جو اس دنیا میں حاصل ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ یہاں ہے اسباب کی دنیا۔جلوے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں۔۔۔۔ملِكِ يَوْمِ الدين کی صفت انتہا ہے ان چاروں امہات الصفات کی ، پیدا کیا ، ترقی دی، نشوونما کے سامان پیدا کئے اس دنیا میں بے شمار، ان گنت جیسا کہ خود قرآن نے دعوی کیا ہے اور ایک عقلمند اس کو صحیح سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے، ان گنت نعمتیں اس نے عطا کیں اور جسمانی لحاظ سے اور ذہنی لحاظ سے اور اخلاقی لحاظ سے اور روحانی لحاظ سے رفعتوں پر پہنچاتا چلا گیا لیکن بسبب انسان جو حقیقتاً اپنے ربّ کی اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کر لیتا ہے جب اس مقام پر پہنچا کہ اُس نے سمجھا کہ میں نے انتہائی رفعت کو پا لیا اس وقت اُس کے سامنے اُس کا مالک آجاتا ہے یعنی خدا جو مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے اور اُس کو یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اس کا سہارا تھا اُس نے سہارا دیا اور بلندیوں پر لے گیا اپنے نفس کو دیکھتا ہوں تو خالی ہاتھ پاتا ہوں تب ایک انتہائی خوف اور قلق دل میں پیدا ہوتا ہے اور انسان اپنے رب کے حضور جھکتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا کسی نیکی کا کسی بزرگی کا کسی پاکیزگی کا میں دعویدار نہیں ہوں لیکن اے میرے پیارے ! تو ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے اس واسطے مالک کی حیثیت سے مجھے پر اپنی رحمت کو نازل کر اُس دن جس دن تو سب دنیا کو اکٹھا کرے گا اور تیرا فیصلہ حق کا فیصلہ ہوگا۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۷۸ تا ۱۸۵) اسلام کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ربّ العالمین ہے۔جو چیز بھی اس نے اس عالمین میں پیدا کی اس کی