انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 272 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 272

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۷۲ سورة البقرة ذریعہ تو نے بے انتہا بشارتیں ہمیں دیں، ہم سے وعدے کئے وعدہ کے لفظ کے ساتھ بھی قرآن کریم نے امت محمدیہ کو بشارتیں دی ہیں ) ایسا کر اور ہمیں توفیق دے کہ ہم شرائط کو پورا کریں ہم تیری راہ میں وہ قربانیاں دیں جن کا تو ہم سے مطالبہ کرتا ہے ہم تیرے پیار کے حصول کے لئے اپنے نفسوں پر اس موت کو طاری کریں جو تیری محبت کو پیدا کرنے والی ہے اور ایک نئی زندگی جس کے نتیجہ میں تیری طرف سے عطا ہوتی ہے اور وہ سارے وعدے ہماری زندگیوں میں بھی پورے ہوں جس طرح ہمارے بزرگوں کی زندگیوں میں جنہوں نے تیری راہ میں قربانیاں دی تھیں وہ پورے ہوئے اور یہ نہ ہو کہ ہم قیامت والے دن اپنی کوتاہیوں کے نتیجہ میں ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائیں۔انسانی زندگی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس زندگی میں ہدایت کے ساتھ گمراہی بھی لگی ہوئی ہے یعنی ایک شخص ہدایت پالے تو ضروری نہیں ہوتا کہ مرتے دم تک وہ ہدایت پر قائم رہے۔عرب کا ایک حصہ مرتد ہو گیا اور ہزاروں ارتداد کی حالت میں مر گئے۔اسلام نے دعا سکھائی اس سلسلے میں کہ خاتمہ بالخیر کی دعا کیا کرو خا تمہ بالخیر کی دعا در اصل اس آیت میں ہے۔رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (ال عمران:۹) اے ہمارے رب! تو ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت کے سامان عطا کر یعنی ہدایت دینا بھی خدا کا کام ہے۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ جسے خدا پسند کرتا ہے اسی کو ہدایت کی راہ پر چلا دیتا ہے۔پھر ہدایت کے حصول کے بعد ٹھوکروں کے دروازے کھلے ہیں۔ارتداد کا دروازہ۔اسلام سے باہر نکلنے کا دروازہ۔اسی طرح کھلا ہے جس طرح اس شخص کے لئے اسلام میں داخل ہونے کا دروازہ کھولا گیا۔اس واسطے هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اے خدا ! تیری رحمت اور تیرے فضل کے بغیر ہم ہدایت پر قائم رہتے ہوئے خاتمہ بالخیر تک نہیں پہنچ سکتے۔تجھ سے استدعا کرتے ہیں کہ جس طرح تو نے ہمارے لئے ظلمات سے نکل کر اپنی رضا کی روشنی میں داخل ہونے کے سامان پیدا کر دیئے تیرے ہی فضل کے ساتھ ایسا ہو کہ مرتے دم تک ہم تیرے قدموں میں پڑے رہیں۔تیرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کا جو تعلق ہے وہ ٹوٹنے نہ پائے کہ تیری رحمت اور تیری عطا کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا۔یہ بھی ایک بنیادی دعا ہے جو قرآن کریم نے ہمیں سکھائی ہے یہ في الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً دونوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے کہ دنیا میں گمراہی اور ناراضگی