انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 271 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 271

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۷۱ سورة البقرة ہیں بشیر ہے انہیں بشارتیں دینے والا ہے وعدے ہیں جو ان انبیاء کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے ان کی اُمتوں سے کئے سب سے زیادہ وعدے بڑی وسعتوں والے بڑی گہرائیوں والے بڑی رفعتوں والے بڑے عظیم وعدے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے امت محمدیہ کو دیئے گئے ہیں۔پچھلے ایک خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ نبی اپنی اُمت کے لئے صرف بشیر ہی نہیں ہوتا بلکہ نذیر بھی ہوتا ہے کیونکہ ہر بشارت کے ساتھ شرائط ہیں اور نبی ہوشیار کرتا ہے اور تنبیہ کرتا ہے کہ اگر تم نے ان شرائط کو پورا نہ کیا تو تمہارے حق میں جو بشارتیں دی گئی ہیں وہ پوری نہیں ہوں گی۔مثلاً آپ کو سمجھانے کے لئے ایک آیت میں اس وقت لے لیتا ہوں وعدہ دیا گیا اُمتِ محمدیہ کو، اور یہ ایک عظیم وعدہ ہے۔اعلان کیا گیا انتم الاعلون (ال عمران :۱۴۰) زندگی کے ہر شعبہ میں فوقیت ہمیشہ تمہیں ہی حاصل رہے گی مگر ایک شرط لگائی اِن كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ اگر تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گے۔یہ وہ نذیر والا حصہ آ گیا اِن کُنتُم مُؤْمِنین میں تو وعدے تو بے شمار ہیں اور انسان کی کوتاہیاں اور کمزوریاں اور غفلتیں بھی کم نہیں۔اس واسطے دعاؤں کا سہارا لینا ضروری ہے۔اسی واسطے کہا گیا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) اس میدان میں ہمیں قرآن کریم نے یہ دعا سکھائی ربِّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيِّمَةِ (ال عمران : ۱۹۵) که اے ہمارے خدا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں، آپ کے سمندر میں تو سارے پچھلے انبیاء مدغم ہو جاتے ہیں کیونکہ نَصِيباً من الكتب ہی ان کو ملا تھا یعنی قرآن کریم کا ایک حصہ اور قرآن کریم کی برکتوں کا ایک حصہ ہی ان کو دیا گیا تھا، تو جو ) تیرے رسولوں کے ذریعے ہمیں وعدے ملے ہیں ہمیں وہ سارا کچھ دے ایسے حالات پیدا کر دے ہمیں توفیق دے کہ ہم ان شرائط کو پورا کرنے والے بنیں جن شرائط کی ادائیگی ان وعدوں کے ساتھ لگائی گئی ہے اور وہ تمام وعدے ہمارے ہماری نسلوں کی زندگی میں پورے ہوں اور یہ نہ ہو کہ قیامت کے دن جب خدا کے حضور ہم سب اکٹھے ہوں تو کہا جائے کہ بشارتیں تو تمہیں بہت دی گئیں وعدے تو خدا تعالیٰ نے تم سے بہت عظیم کئے تھے لیکن اے نادانو ! تم نے اپنی غفلتوں، کوتاہیوں اور گناہوں کے نتیجہ میں اور خدا تعالیٰ کے احکام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان وعدوں سے حصہ نہ لیا اور اس طرح ہم قیامت کے دن ذلیل اور رسوا ہو کے رہ جائیں۔تو ایک یہ دعا ہے جو بڑی وسعتیں اپنے اندر رکھتی ہے کہ اے خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے