انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 270 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 270

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۷۰ سورة البقرة في الدُّنْيَا حَسَنَةً کے اس فقرے کے اندر جو خدا تعالیٰ نے بیان کر دیا۔وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں جو میں نے نعماء عطا کیں جو رحمت اور فضل موسلا دھار بارش کی طرح تم پر نازل ہوئے وہ تمہاری دُنیوی اور ور لی زندگی کے ساتھ ہی تو تعلق نہیں رکھتے اُخروی زندگی کے ساتھ بھی ان کا تعلق ہے بلکہ اُخروی زندگی کے ساتھ ہی ان کا صحیح تعلق ہے اور یہ ساری چیزیں اسی لئے تمہیں دی گئی ہیں کہ تم اپنی آخرت کو سنوارو۔اس واسطے دعا کرو کہ اے خدا! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا اور یہ دنیا کی نعمتیں ہمیں اُخروی زندگی کی جنتوں کی راہوں پر چلا کر ان جنتوں تک پہنچانے والی ہوں تجھے ناراض کر کے ہمیں جہنم کی طرف لے جانے والی نہ ہوں۔میں نے بتایا کہ یہ دُعا جو ہے اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِيهِ ایک ایسی دعا ہے جس میں دُعا کا ایک عالم کا عالم کھولا گیا اور ہمیں اس چھوٹی سی آیت میں بہت کچھ خدا تعالیٰ نے بتادیا کہ کیا مانگنا ہے کس طرح مانگنا ہے پھر اسی سے آگے ہم چلتے ہیں اس دروازے میں داخل ہو کر۔سورہ تحریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( التحريم :٩) اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے فائدے کے لئے کامل کر دے اور ہمیں معاف فرما تو ہر چیز پر قادر ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم کمزور انسان ہیں گناہ بھی سرزد ہوتے ہوں گے غلطیاں اور کوتاہیاں بھی ہوں گی ہمارے گناہوں، غلطیوں اور کوتاہیوں کو اپنی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ لے اور ہمیں اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا اپنے دائرہ استعداد کی انتہائی روحانی رفعتوں تک اپنے فضل سے پہنچا دے اور ہم تیرے حضور عاجزی سے متضرعانہ دعا کرتے ہیں کہ تو خود ( جو ہر چیز کے کرنے پر قادر ہے ) ہماری اس بات میں مدد کر کہ جو تو نے ہمیں نور دیا وہ نور مکمل ہو جائے ہماری زندگی میں اور جن انتہاؤں تک پہنچنا ہمارے لئے مقدر تھا ہمیں وہاں تک پہنچا ہماری غلطیاں کوتاہیاں روک نہ بن جائیں اور تیری رضا کی انتہا کو ہم حاصل نہ کر سکیں۔پھر ایک اور وسیع مضمون ہے دعاؤں کا۔وہ یہ کہ ہر نبی اپنی اُمت کو بشارتیں دیتا ہے۔سارے قرآن کریم کو پڑھ لو کہیں اختصار سے ذکر ہے بعض جگہ تفصیل سے بھی ذکر آ گیا ہے۔تو ہر نبی اپنی اُمت کے لئے یا ان کے لئے یا ان لوگوں کے لئے جو اس کا کہا مان کر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے