انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 267

۲۶۷ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث مذہب ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت كافة للناس ہے، تمام انسانوں کے لئے ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جتنی زبانیں بولی جاتی ہیں ان تمام زبانوں کے بولنے والوں کو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ نے کہا اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ تم دعا کرو تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔جس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ دنیا کی ہر زبان میں خدا کے حضور عاجزانہ جھک کر دعا کرنے کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔اتنا عرصہ گزر گیا چودہ سوسال ہونے کو آئے ہیں۔اتنے لمبے زمانہ میں بھی عربی زبان جو ہے وہ ساری دنیا کی زبان تو نہیں بن سکی۔یہ صحیح ہے کہ بعثت نبوی کے وقت عربی ایک چھوٹے سے خطہ میں بولی جاتی تھی لیکن جس وقت اسلام کا اثر اور رسوخ پھیلا اس وقت مثلاً مصر جو عربی بولنے والا نہیں تھا وہاں عربی بولی جانے لگی۔اسی طرح جو اس وقت مرا کو اور الجزائر وغیرہ ممالک ہیں یہ افریقہ کے ممالک ہیں ان میں بھی اسلامی تمدن کے اثر کی وجہ سے عربی بولی جانے لگی۔اسی طرح مشرق کی طرف بہت سے ممالک ہیں جن میں عربی زبان رائج ہوگئی لیکن ہر انسان تو عربی زبان نہیں بول سکتا۔جس وقت قرآن کریم نازل ہوا اور یہ آیت اتری اس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں چھوٹا ساخطہ تھا انسانوں کا جو عربی بولنے والا تھا۔کہا یہ گیا اس وقت کہ تم دعا کرو میں قبول کروں گا اور مخاطب ہیں قرآن کریم کے تمام بنی نوع انسان۔اس آیت کے ٹکڑے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی جاسکتی ہے اور کی جانی چاہیے۔کی جاسکتی ہے کیونکہ کہا گیا سب کو مخاطب کر کے پکارو مجھے، تو جو عربی جانتا نہیں وہ کیسے پکارے گا عربی میں وہ تو اپنی زبان میں ہی پکارے گا اور دوسرے دعا کرنی چاہیے اس لئے بھی کہ اگر کسی کوٹوٹی پھوٹی عربی آتی بھی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کے اپنی ضرورتوں کو اس زبان میں ادا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن بندے کو تو تسلی تب ہوتی ہے جب وہ اپنی زبان میں اپنا مافی الضمیر دوسرے کے سامنے بیان کر دے۔اس لئے جماعت احمدیہ کا مسلک یہ ہے کہ نماز میں بھی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسنون عربی دعا ئیں اسی طرح عربی میں پڑھنی چاہئیں۔ہر مسلمان کو وہ عربی عبارتیں یاد ہونی چاہئیں خواہ وہ بچہ ہو خواہ اس کے معنی اس نے ابھی سیکھے ہوں یا نہ سیکھے ہوں لیکن نماز میں ان دعاؤں کے علاوہ جو ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ورثہ میں ملیں اور جن سے ہماراعشق اور پیار کا تعلق ہے (اس لئے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وہ دعائیں نکلتی تھیں