انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 264
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۶۴ سورة البقرة د و حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قوم کی زندگی کے اندر ایک انقلاب عظیم بپا ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں تمہیں پتا ہے یہ انقلاب کیوں پیدا ہوا یہ ایک فانی فی اللہ کی راتوں کی عاجزانہ دعاؤں کا نتیجہ تھا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے اتنی دعائیں کیں، پہلے عرب کے لئے اور پھر سب بنی نوع انسان کے لئے ( کیونکہ اسلام کا پیغام ساری دنیا میں پہنچنا تھا ) کہ ایک انقلاب عظیم بپا ہو گیا ایسا انقلاب جسے آج کی دنیا بھی سمجھنے سے قاصر ہے حالانکہ سائنس بہت ترقی کر چکی ہے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۳۸۶۲۳۸۳) قرآن کریم نے میں نے پچھلے چند ہفتوں میں ہی یہ بیان کیا ہے اب مختصر کروں گا۔ایک تو یہ اعلان کیا۔میرے ساتھ تعلق پیدا کرنا چاہتے ہو تو مجھے پانے کے لئے تمہیں راکٹ میں بیٹھ کے چاند پہ جانے کی ضرورت نہیں یا کسی اور ستارے یا ساتویں آسمان تک پہنچنے کی ضرورت نہیں۔إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِّي قَرِيبٌ میں تمہارے پاس ہوں لیکن پاس ہوتے ہوئے بھی دُور ہوں۔اُجیب دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جو مجھے اپنے پاس سمجھے گائیں تو پاس ہوں لیکن انسانوں میں سے جو مجھے اپنے پاس سمجھے گا اور پاس سمجھنے کے نتیجہ میں اس کی روح پر میری عظمت اور کبریائی جو ہے وہ سایہ ڈال رہی ہوگی اور میری عظمت اور کبریائی کی خشیت اس کے دل میں پیدا ہوگی اور میری صفات کو دیکھ کے وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ سے مانگے بغیر میری زندگی ناکارہ ہے اور اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ وہ دعا کرے گا مجھ سے۔مجھے پکارے گا میں اس کی دعا کو قبول کرلوں گا۔اور دوسری طرف یہ کہا۔اس میں تو ایک اصول بیان کیا نا کہ جو پکارے گا اس کی پکار کو میں قبول کروں گا۔دوسری طرف یہ کہا کہ قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَو لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) اب ہماری خدا تعالیٰ کو یہ ضرورت تو نہیں ہے کہ ہم مزدوری کریں اس کی اور فائدہ پہنچائیں اسے۔اس نے مکان بنانے ہیں ہم راج اس کے جاکے راجگیری کریں اور مزدور اس کی مزدوری کریں تا کہ اس کو فائدہ پہنچے۔یہ تو نہیں ہمارا اللہ۔وہ تو كُن فَيَكُونُ (البقرة : ۱۱۸) اس کی صفات کی بنیاد یہ ہے کہ ہر صفت کا جلوہ جو ہمارے وقت کا سیکنڈ ہے اس سے شاید کروڑویں حصہ میں ظاہر ہوتا اور وہ چیز بن جاتی ہے۔تو قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّی کس چیز کی پرواہ کا یہاں ذکر ہے۔اعمالِ صالحہ کہ تمہارے اعمال صالحہ کو میں کیوں قبول کروں۔اگر تم اس حقیقت سے نا آشنا ہو کہ تمہیں دعا کے ذریعہ میری رحمت کو جذب کرنا چاہیے اس کے بغیر تمہارے دو