انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 256

۲۵۶ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ہماری محبت کی وجہ سے اور ہماری رضا کے حصول کے لئے جو اموال خرچ کرتے ہو ان میں مسافر کا بھی حق ہے ہم نے اس خرچ کو تمہارا حق قرار دیا ہے اور تمہارے بھائیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تمہارا حق تمہیں ادا کیا جائے پھر یہی نہیں کہ تمہارا حق ادا کیا جائے بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ حق سے زائد دو احسان کرو اور بہت احسان کرو اور اس قدر احسان کرو کہ اسراف سے ورے ورے ہر ممکن خدمت اس کی بجالاؤ۔ان تمام باتوں کے باوجود ہم یہ کہتے ہیں کہ پھر بھی سفر میں تمہیں تمہارے جیسی سہولت نہیں ملے گی ہم تمہارے لئے سہولت چاہتے ہیں اس لئے ہم نے تمہیں اجازت دے دی ہے اور کہا ہے کہ رمضان کے روزے سفر کی حالت میں نہ رکھا کر واب دیکھو یہ کتنی پیاری تعلیم ہے اور کس قدر محبت کا اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے کیا ہے۔اس محبت اور پیار کے اظہار کی وجہ سے ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ایک تو ہم ہر وقت خدا تعالیٰ کی حمد کرتے رہیں خدا تعالی کی کبریائی ہر آن بیان کرتے رہیں اور دوسرے خدا تعالیٰ کی کامل صفات کو ہر وقت اپنے تصور میں رکھیں اور جس محبت کا وہ ہم سے اظہار کرتا ہے اس کا جواب اسی قسم کی محبت سے دیں انسان بشری کمزوریوں سے تو بچ نہیں سکتا لیکن اپنے ماحول میں جس قدر پیار کسی سے کر سکتا ہے جس قدر محبت وہ کسی سے کر سکتا ہے وہ سب سے زیادہ پیار اور محبت شکر کے طور پر اپنے رب سے کرے چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے اور پھر ہدایت کے ساتھ ہماری سہولتوں اور آسانیوں کا خیال رکھا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم کسی موقع پر بھی کمزوری نہ دکھا ئیں اور اس کی حمد کرتے ہوئے ان سہل راستوں پر جو مستقیم راستے ہیں اس کے قرب کی طرف بڑھتے چلے جائیں (صراط مستقیم ہی ایک سہل راستہ ہے کیونکہ جو چکر اور بل کھا تا ہوا راستہ ہے وہ سہل نہیں ہوا کرتا جو راستہ ایک میل مسافت طے کرانے کی بجائے دس میل کی مسافت طے کرا کے منزل مقصود تک پہنچاتا ہے وہ سہل نہیں ہوسکتا )۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں چونکہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہوں اس لئے میں نے تمہارے لئے ایک صراط مستقیم بنا دیا ہے اور اس راستہ پر بھی جگہ بہ جگہ تم ایسے احکام پاؤ گے کہ جو تمہاری سہولت کا سامان پیدا کر دیں گے تم اس راستہ پر چلتے ہوئے رمضان کے روزے رکھو گے تو تمہارے کانوں میں تمہارے رب کی نہایت ہی محبت بھری آواز آئے گی کہ اگر تم سفر پر ہو تو روزہ نہ