انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 245
۲۴۵ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے احساس کو زندہ اور اجاگر اور شدت کے ساتھ قائم کرو اور تم شکر گزار بندے بن جاؤ اور جب تم خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن جاؤ گے تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا کرے گا مزید ترقیات کے دروازے تم پر کھولے گا مزید حکمتیں اور علوم قرآنی تمہیں عطا کرے گا اور تمہارے نور میں اور زیادہ نورانیت پیدا کرے گا اور پھر ایک حسین اور مفید چکر اور دائرہ قائم ہو جائے گا۔تم خدا تعالیٰ سے نعماء حاصل کرتے رہو گے اور اپنی ہدایت اور اپنی فراست اور اپنی روحانیت کے نتیجہ میں ہر موقع پر اپنے نفس کو قربان کر کے اللہ ہی کی عظمت اور کبریائی کا اعلان کرو گے اور اس طرح اس کا شکر ادا کرو گے تو پھر وہ اور نعمتیں تمہیں دے گا پھر تم اور شکر ادا کرو گے تو وہ اور نعمتیں تمہیں عطا کرے گا۔غرض رمضان کے مہینہ میں ایک ایسا دائرہ شروع ہو جاتا ہے جو غیر متناہی روحانی اور جسمانی، دینی اور دنیوی ترقیات کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے اور انسان کسی مقام پر ٹھہرتا نہیں اور انسان کا دشمن شیطان جو کبھی نفس اتارہ کی سرنگ سے اور کبھی بیرونی حملوں کے ذریعہ انسان کو خدا ا سے دور کرنا چاہتا ہے وہ اپنے تمام حملوں میں نا کام ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ہی شیطانی حملوں سے بچائے رکھے اور محفوظ رکھے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۹۶۸ تا ۹۷۴) اس آیت میں یہ بتانے کے بعد کہ قرآن کریم کا رمضان کے مہینہ سے ایک گہرا تعلق ہے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں تم تین برکات حاصل کر سکتے ہو اور ان برکات کے حصول کی طرف تمہیں متوجہ ہونا چاہیے۔ایک یہ کہ قرآن کریم جس میں رمضان کی برکات کا ذکر ہے اور جو رمضان میں بار بار نازل ہوتا رہا ہے وہ ایک کامل ہدایت کے طور پر دنیا کی طرف بھیجا گیا ہے۔رمضان میں جس حد تک ممکن ہو علیحدہ ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کی طرف متوجہ ہونے کا ارشاد ہے اور ہر شخص قرآن کریم کی ہدایت یعنی وہ مذہبی تعلیم جو یہ لے کر آیا ہے اسے آسانی سے سمجھ سکتا ہے تو ایک تو یہ هُدًى لِلنَّاسِ ہے ہر شخص کے لئے یہ ممکن ہے کہ قرآن کریم کی ہدایت کا جو حصہ ہے وہ آسانی سے سمجھ لے اس کی چند ایک مثالیں میں دوں گا سارا قرآن مجید اس ہدایت سے بھرا ہوا ہے مثلاً یہ کہ نماز پڑھوا اپنی شرائط کے ساتھ اس حد تک ہر شخص سمجھ سکتا ہے بلکہ جو مسلمان نہیں وہ بھی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کریم نے یہ ہدایت دی ہے کہ بعض مخصوص شرائط کے ساتھ التزام کے ساتھ نماز ادا ہونی چاہیے۔قرآن کریم میں ایک ہدایت یہ بھی ہے کہ لا تَأْكُلُوا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ کہ ناجائز طریقوں