انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 237
۲۳۷ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث یکے بعد دیگرے انبیاء آئے۔انسان دنیوی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی ترقی کرتا چلا گیا۔پس جہاں تک آسمانی ہدایتوں کا تعلق تھا اور زمین کے اندر قوتوں کے پیدا کرنے کا سوال تھا اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کے ہر مرحلے اور ہر درجے میں مختلف ہدایتیں نازل کرتا اور قوتیں پیدا کرتارہا کیونکہ وہ ہر آن اتنا باخبر اور قریب ہے کہ انسان کی ہر بدلی ہوئی حالت کا اُسے علم ہوتا ہے ویسے تو وہ علام الغیوب ہے۔ہر چیز اس کے علم میں بھی ہے۔یہ اور چیز ہے۔میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی توجہ بھی انسان کی طرف رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر بدلی ہوئی حالت کے مطابق اس کی ضرورتوں کے پورا کرنے کا سامان پیدا کیا اور پھر بالآخر قرآن کریم کی شکل میں اُس نے ایک کامل ہدایت حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمائی۔کیونکہ بعثت نبوی کے وقت انسان اپنے شعور میں اس مقام تک پہنچ چکا تھا اور انسان اس قابل ہو گیا تھا کہ ایک کامل ہدایت اور مکمل شریعت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اُٹھا سکے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے لوگو! تم دیکھتے نہیں۔میں نے تمہارے لئے رمضان کے مہینے میں ایک ایسی ہدایت نازل کی ہے جو ھدی لینا کس ہے جس میں سب بنی نوع انسان کے لئے ہدایت کے سامان موجود ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ پہلی ہدایتیں محدود تھیں اور محدود ہونا بھی ایک نقص ہے اس لئے جب ہم پہلی ہدایتوں کو ناقص کہتے ہیں تو اس معنی میں ناقص کہتے ہیں کہ وہ محدود تھیں بوجہ اس کے کہ اس زمانے کی ضرورتیں محدود تھیں اور بوجہ اس کے کہ انسان اپنی مادی اور روحانی نشوونما میں اپنے کمال کو نہیں پہنچا تھا۔اس لئے فرما یا اس قرآن عظیم کے ذریعہ وہ علم بیان کر دیئے گئے ہیں جن کا ذکر پہلی ہدایتوں میں نہیں ہے۔یہ قرآن کریم ہی ہے جو ایک کامل ہدایت کی شکل میں نازل ہوا ہے۔اس کے نزول سے پہلے انسان کے ذہنی، اخلاقی اور روحانی قومی اس قابل نہیں تھے کہ اُن کی نشوونما کے لئے کامل ہدایت نازل ہوتی۔اس لئے اگر چہ بعض ہدایات کا انہیں اجمالاً علم دیا جاتارہا لیکن مکمل علم نہیں دیا گیا کیونکہ وہ اس کو کماحقہ حاصل کرنے کے قابل نہیں تھے لیکن قرآن عظیم کے زمانے کا انسان اس قابل ہو گیا کہ وہ بَيِّنَتِ مِنَ الْهُدى کا حامل بن سکے۔چنانچہ وہ جو پہلی ہدایتوں میں اجمال پایا جاتا تھا قرآن کریم نے اس کی تفصیل بیان کی گویا انسان کو ایک ارفع مقام پر پہنچ جانے کی وجہ سے قرآن کریم کے ذریعہ