انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 232
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۲ سورة البقرة ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے جمع کرنے میں گزار دیں۔لیکن جب رمضان آتا تو وہ حدیث کا سارا کام بستوں میں لپیٹ دیتے اور کہتے کہ اب یہ قرآن مجید پڑھنے کا مہینہ ہے۔حتی کہ ان میں سے کئی ایک تو ایک ایک دن میں قرآن کریم کا دور ختم کرتے یعنی رمضان شریف کے ایک مہینے کے اندر وہ تھیں دفعہ قرآن کریم کو پڑھتے۔دوسری بات یہ کہ جب قرآن ھدی لن کیس ہے۔اور اس میں بینات ہدایت بھی درج ہیں اور پھر وہ الفرقان بھی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم تلاوت کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیات پر غور کریں اور فکر اور تدبر سے کام لیں اور ساتھ ہی دعا بھی کریں کہ اے اللہ ! ہمیں علم قرآن عطا کر اور اس کے حقیقی معنی سمجھا۔تیسری بات جو بیان ہوئی ہے۔وہ فلیصمہ ہے۔کہ اس مہینے کے روزے رکھے۔یہ ایک حکم ہے۔کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔کیونکہ مسلمان کا اتنا تو ایمان ضرور ہوتا ہے کہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔اور اس میں روزے رکھنے کا حکم ہے۔اس لئے روزے رکھنے چاہئیں۔چوتھی بات یہ کہ جو شخص سفر پر ہو یا بیمار ہو تو وہ اتنے دن کے روزے بعد میں رکھے۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ جو سفر پر ہو یا بیمار ہو اور وہ روزے نہ رکھ سکے تب وہ ان روزوں کو پورا کرے۔تو ان الفاظ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی سے بیماری میں روزہ رکھ لیتا ہے یا سفر میں روزہ رکھ لیتا ہے تو قرآن کریم کی اس آیت پر تبھی وہ کار بند رہ سکتا ہے کہ ان روزوں کے باوجود کسی اور وقت میں روزے رکھے۔کیونکہ قرآن کریم نے تو یہ کہا ہی نہیں کہ روزے چھوٹیں تب اور وقت میں روزے رکھو۔قرآن کریم نے تو صرف یہ فرمایا ہے کہ جو دن رمضان کے ایسے آئیں جن میں تم بیمار ہو یا سفر میں ہو تو ان دنوں کے روزے تم نے دوسرے دنوں میں رکھنے ہیں۔مگر بہا نہ بھو بھی نہیں بننا چاہیے بات یہ ہے کہ سفر کے متعلق بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ”جی آج کل دے سفردا کی اے۔بڑا آرام ہے ریل وچ بیٹھے ایتھوں اوتھے پہنچ گئے، لیکن اگر روزہ رکھنا عبادت ہے۔تو عبادت خواہ جونسی بھی ہو۔اسے ہم نے اس کی پوری شرائط کے مطابق ادا کرنا ہے۔مثلاً قرآن کریم کا پڑھنا، نوافل ادا کرنا، رات کو جا گنا، دن کو بھو کے اور پیاسے رہنا۔پھر بُری عادتوں کو چھوڑنا اور کئی نیکیوں کے کرنے کا اپنے ربّ