انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 233
۲۳۳ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سے وعدہ کرنا۔وغیرہ کئی چیزیں ہیں جن کا تعلق رمضان کے مہینے سے ہے۔سواگر رمضان کی عبادت کما حقہ ہم نے ادا کرنی ہے تو یقینی بات ہے کہ چاہے ریل کا سفر ہو۔یا ہوائی جہاز کا ہم اس عبادت کو سفر میں یا بیماری میں کما حقہ ادا نہیں کر سکتے۔ایک شخص بیماری کی وجہ سے مثلاً نوافل ادا نہیں کر سکتا۔اور نہ ہی رات کو دعا کرنے کا موقع پاتا ہے۔تو ایک طرح اس نے اس عبادت سے پوری طرح فائدہ نہ اٹھایا صرف بھوکا پیاسا رہنا ہی تو روزے کا مقصد نہیں کہ صبح صبح کسی کو اس کے گھر والے اٹھا ئیں۔یا سوئے سوئے اس کے منہ دودھ کا پیالہ یا ہارلکس کا ایک گلاس ڈالدیں اور پھر وہ لیٹ جائے۔اور سارا دن سوتا ر ہے اور پھر شام کے وقت اس کو افطاری کے لئے اٹھادیا جائے۔یہ کوئی روزہ نہیں نہ یہ رمضان کی عبادت کہلائے گی بہر حال بہانہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔کہ کسی طرح روزے کو چھوڑ دیا جائے۔بیماری کے متعلق تو بہانہ بنانا آسان ہے اس لئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے یہ صرف ڈاکٹر ہی فیصلہ دے سکتا ہے۔کہ یہ بیماری ایسی ہے کہ جس کی وجہ سے روزہ چھوڑا جائے۔بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں کہ بظاہر چنگے بھلے معلوم ہوتے ہیں چلتے پھرتے بھی ہیں لیکن ڈاکٹر یہ فیصلہ دے دیتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں۔مثلاً ایک شخص بلڈ پریشر کا بیمار ہے۔اور ڈاکٹر کے نزدیک اس کا روزہ رکھنا اس کے لئے خطرناک ثابت ہو حالانکہ وہ چلتا پھرتا ہوگا۔باتیں بھی کرتا ہوگا۔اسی طرح بعض ایسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں کہ ڈاکٹر یہ فیصلہ دے۔کہ اس بیماری میں روزہ رکھنا مضر نہیں بلکہ مفید ہوگا۔پس ہمیں بہانہ بنا کر روزہ نہ چھوڑنا چاہیے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز مخفی نہیں اور نہ کسی کی حالت چھپی ہوئی ہے۔ہم اس کے ساتھ فریب یا چالا کی سے کام نہیں لے سکتے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۵۴ تا ۶۶ ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر (بھی) روزوں کا رکھنا اُسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح اُن لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم (روحانی ترقیات کے لئے اللہ تعالیٰ کا فیض حاصل کرو اور اسی طرح اخلاقی ترقیات کے لئے اس کی برکت سے ) اپنے اندر ایک طاقت پیدا کرو ( سوتم روزے رکھو) چند گنتی کے دن اور تم میں سے جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو ( اُسے ) اور دنوں میں تعداد پوری کرنی ) ہوگی اور اُن لوگوں پر جو اس (یعنی روزہ) کی طاقت نہ رکھتے ہوں (بطور