انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 231
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۳۱ سورة البقرة ال ہیں یا نہیں۔پھر بسا اوقات ہماری دعا اور قبولیت دعا کے درمیان بڑا زمانہ گزرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ میں اس کے متعلق ایک بڑا لطیف نوٹ دیا ہے۔فرمایا:- غرض ایسا ہوتا ہے کہ دعا اور اس کی قبولیت کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلاء پر ابتلاء آتے ہیں اور ایسے ابتلاء بھی آجاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں مگر مستقل مزاج، سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس کے بعد نصرت آتی ہے اور ان ابتلاؤں کے آنے میں پھر یہ ہوتا ہے کہ دعا کے لئے جوش بڑھتا ہے“۔پھر فرما یا فَلْيَسْتَجِيبُوا ني کہ دعا کا نشان دیکھ کر مومن بندوں کو یقین کر لینا چاہیے کہ میں نے جو احکام بھی ان کے لئے آسمان سے نازل کئے ہیں وہ ان کی بہتری کے لئے ہی ہیں۔وَلْيُؤْمِنُوانی چاهے کہ وہ میری توحید پر ایمان لائیں اور میری صفات کی معرفت حاصل کریں اور مخلق باخلاق اللہ کی طرف وہ متوجہ ہوں اور اس کی توفیق انہیں صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے۔لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ کہ وہ ہدایت پر استقامت سے قائم ہو جائیں۔رشد کے معنی ہیں نیکیوں پر دوام اور یہ بڑی ضروری چیز ہے جو شخص چند روزہ نیکیوں کے بعد پھر اپنی زندگی کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی بغاوت میں گزارتا ہے وہ اس کے فضلوں کو کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے رشد کی ضرورت ہے اور رشد کے معنی عربی زبان میں یہ ہیں کہ ہدایت پا گیا اور اس پر قائم رہا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہارے لئے ہدایت کے سامان بھی مہیا فرمائے ہیں اور پھر تم ماہ رمضان میں قبولیت دعا کے نمونے بھی دیکھتے ہو لیکن اگر تم مستقل طور پر میری اطاعت کو اختیار نہیں کرو گے تو میرے فضل بھی تم پر مستقل طور پر نازل نہیں ہوں گے اور نہ ہی تمہارا انجام بخیر ہو گا۔انجام بھی تم بخیر اسی کا ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جو اپنی گردن پر رکھے۔الغرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان دو چھوٹی سی آیات میں جو حکمت اور ہدایت کی باتیں بتائی ہیں اس سے جو نتیجے نکلتے ہیں ان میں سے اول تو یہ ہے کہ رمضان شریف کا قرآن مجید کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اس لئے رمضان شریف میں تلاوت قرآن مجید بڑی کثرت سے کرنی چاہیے۔ہمارے بعض بزرگ تو