انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 223 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 223

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث الثالثة ۲۲۳ سورة البقرة بارش نازل نہ ہو پس یہ تمام مفہوم لفظ رمضان کے اندر ہی پایا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ میرے بندوں کو چاہیے کہ وہ راتوں کے تیروں ( دعاؤں) کو تیز کریں اور جنونی شکاری کے جنوں سے بھی زیادہ جنوں رکھتے ہوئے میری رحمت کی تلاش میں نکل پڑیں تب میری رحمت کی تسکین بخش بارش ان پر نازل ہوگی اور میرے قرب کی راہیں ان پر کھولی جائیں گی۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي انْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ - فرمایا یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو بہت ہی برکتوں والا ہے۔کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا یا جس کے بارے میں قرآن کریم نے تعلیم دی یا جس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا۔اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ کے اندر تین باتیں بیان کی گئی ہیں : اوّل یہ کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نزول قرآن کریم کی ابتداء ہوئی۔احادیث اور دوسری کتب ( تاریخ ) سے پتہ چلتا ہے کہ رمضان کے آخری حصہ میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا تھا۔تو مہینے کا انتخاب اور پھر رمضان کے آخری حصہ کا انتخاب جو خدائے تعالیٰ نے کیا وہ بغیر کسی حکمت اور وجہ کے نہیں ہوسکتا۔دوسرے اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرآن کے یہ معنی بھی ہیں کہ اس کے بارے میں قرآن کریم نے تاکیدی اور تفصیلی احکام نازل کئے ہیں اور جب اللہ تعالی قرآن کریم میں کوئی حکم تاکید کے ساتھ نازل فرماتا ہے تو اس لئے نازل فرماتا ہے کہ اس حکم کو بجالا کر بندہ اپنے رب کی بہت سی برکتوں کو حاصل کر سکے۔تیسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں کہ بار بار سارا قرآن کریم نازل ہوتا رہا۔کیونکہ احادیث میں یہ امر بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ ہر رمضان کی پہلی رات سے آخری رات تک حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول فرماتے اور اس وقت تک جتنا قرآن کریم نازل ہو چکا ہوتا۔آپ سے مل کر اس کا دور کرتے۔اس طرح وہ نازل شدہ قرآن آپ پر پھر ایک دفعہ بذریعہ وحی نازل ہوتا اور ہر سال ایسا ہوتا تھا۔بخاری میں یہ حدیث یوں درج ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِيْنَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ يَلْقَاهُ في كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ