انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 217
۲۱۷ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہا تھا جب انہوں نے کہا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں خدا تعالیٰ کی راہ میں تو انہوں نے بڑا ہی لطیف جواب دیا۔انہوں نے یہ نہیں کہا پھر ذبح کر دو۔انہوں نے یہ کہ تابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ ( الصفت : ۱۰۳) جو حکم ہے اس پر عمل کرو۔تو اصل روح یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے اس کی اطاعت میں برکت اور ثواب اور خدا کی رضا کا راز ہے۔اپنے زور بازو سے تم خدا تعالیٰ کے پیار کو اپنی طرف نہیں کھینچ سکتے۔کوشش کرنے والے تو بعض لوگ ایسے ہیں جو غلط راہ پر چل کے ساری عمر اس طرح ہاتھ اونچار کھتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے یہاں تک کہ دورانِ خون ختم ہو کے سارا باز وخشک ہو جاتا ہے۔ناسمجھ دماغ کہے گا کہ اس نے خدا کے لئے بڑی قربانی دی لیکن جو صاحب فراست اور جس کو تفقه في الدِّینِ حاصل ہے وہ کہے گا کہ اس نے اطاعت باری تعالی سے گریز کیا اور خدا تعالیٰ کو ناراض کیا تو اس نکتے کو سمجھو۔صرف جماعت احمدیہ کو کہ ان کو سمجھانا میرا فرض ہے۔یہ کہہ رہا ہوں کہ کوئی بدعت بیچ میں نہ آئے۔خدا نے جو کہا ہے وہ کرو۔جو خدا نے کہا ہے وہ کرو گے تمہیں خدا کا پیا مل جائے گا۔اگر اپنی طرف سے بیچ میں بدعات کو شامل کرو گے خدا تعالیٰ کو ناراض کر دو گے۔پانچویں بات ہمیں یہ پتا لگی کہ ایسے لوگ جو عارضی طور پر بیمار اور روزہ چھوڑ رہے ہیں۔مثلاً تین دن ۱۰۶ بخار ہو گیا ملیر یا ہمارے ملک میں بڑا ہے دودن ، تین دن اس کی کمزوری رہی پانچ چھ دن میں وہ روزہ نہیں رکھ سکا، پھر رمضان میں ( رمضان تو انتیس ، تیس دن کا ہے ) اس نے روزے رکھنے شروع کر دیئے لیکن پانچ چھ روزے جو چھٹ گئے اس کے تو حکم یہ ہے کہ بعد میں رکھے، اگلے رمضان سے پہلے ان روزوں کو پورا کرے اور مسافر ساری عمر کے لئے تو مسافر نہیں ہوتا۔کوئی پانچ دن کے لئے باہر جائے گا اس کے پانچ روزے چھوٹیں گے اگر رمضان میں گیا، کوئی ممکن ہے کہ سارا رمضان بھی سفر میں گزارے حکم ہے کہ چھٹے ہوئے روزے انتیس دن کا اگر رمضان تھا تو انتیس روزے اگلے رمضان سے پہلے رکھے۔اگر وہ تیس دن کا رمضان ہے تو اگلے رمضان سے پہلے وہ تمیں روزے اپنے پورے کرے۔یہ حکم ہے ان آیات میں۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو، جو بیمار ہے، جو سفر پہ ہے قسم کی کیٹیگری (Categary) میں نہیں آتے۔یہ وہ لوگ ہیں جو آگے دو قسمیں ہیں ان کی ، جو ہمیشہ کے لئے اپنی عمر میں روزہ رکھنے کی طاقت کو کھو بیٹھے ہیں۔ایک پچھتر اسی سال کا بوڑھا ہے، وہ بالکل ہی