انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 216 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 216

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۱۶ سورة البقرة انشاء اللہ تعالیٰ پھر موقع ہوا تو اس کو بھی بتا دوں گا۔بہر حال خدا تعالیٰ کا یہ حکم توڑنا کہ خدا کہے کہ اے فرد واحد، ( ہر فرد کو مخاطب کیا ہے قرآن کریم نے ) اے احمدی! تجھ پر روزہ فرض ہے کیونکہ فرض کی جو شرائط ہیں وہ تیرے وجود میں، تیری ذات میں تیری زندگی میں پوری ہوتی ہیں اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے اس حکم کو توڑے تو خدا تعالیٰ کی سزا کا عذاب کا وہ مستحق ٹھہرے گا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور دنیوی کوئی سزا بطور کفارہ کے اس کے لئے نہیں بن سکتی کہ انسان کی سزا خدا تعالیٰ کی سزا سے اسے بچالے۔قرآن کریم، قرآن حکیم ہے دلیل دیتا اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ جو میرا حکم ہے اس پر کیوں عمل کرو۔تو یہاں دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا گیا۔ایک یہ کہ اخلاقی بیماریاں ہیں بہت سی ، روزہ ان سے بچاتا ہے کیونکہ پاکیزگی پیدا کرتا اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں کھولتا ہے اور جن پر اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں کھولی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ ایسا سامان پیدا کر دیتا ہے کہ ان راہوں پر چل کر اخلاقی اور روحانی بیماریاں پیدا نہیں ہوسکتیں اور نہ ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ایسے لوگوں کی حفاظت کرتا ہے جو نیک نیتی کے ساتھ اور پورے اخلاص کے ساتھ اور پوری توجہ کے ساتھ اور انتہائی عاجزانہ جھک کے اس کے حضور روزہ بھی رکھتے ہیں اور قبولیت روزہ کے لئے اس کے حضور دعا ئیں بھی کرتے ہیں۔تیسری بات جو ان آیات سے ہمیں پتا لگتی ہے، ظاہر ہے کہ جو بیمار ہو روزہ نہ رکھے۔اور چوتھی بات یہ کہ جو سفر پر ہو وہ روزہ نہ رکھے۔سفر پر ہونے کے متعلق نہ یہ بتایا ہے قرآن کریم نے کہ دس دن کے سفر پر ہو یا دس مہینے کے سفر پر ہو یا تین دن کے سفر پر ہو، نہ یہ بتایا ہے کہ دس میل کے سفر پر ہو یا پچاس میل کے سفر پر ہو یا پانچ ہزار میل کے سفر پر ہو۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس لئے فرمایا ہے کہ جو عرف عام میں سفر کہلاتا ہے وہ سفر ہوگا۔آپ نے فرمایا ہم سیر کے لئے نکلتے ہیں، کئی میل سیر کے لئے چلے جاتے ہیں کسی کے دماغ میں یہ بات نہیں آتی کہ ہم سفر پر ہیں اور ہم سفر کی نیت سے نکلتے ہیں اور ابھی دو میل نہیں گئے ہوتے تو ہمارا دماغ جان رہا ہوتا ہے کہ ہم سفر پہ نکلے ہوئے ہیں۔جو بیمار یا جو سفر پہ ہو، اس کے لئے جو سہولت دی گئی یہ اختیاری نہیں جس طرح یہ حکم ہے کہ جب روزہ رکھنا تم پر واجب ہو جائے شرائط کے لحاظ سے، روزہ رکھو۔اسی طرح یہ حکم ہے کہ جب تم بیمار ہو یا سفر پہ ہو تو روزہ نہ رکھو۔اصل چیز اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ جو حضرت اسمعیل علیہ السلام نے