انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 215

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۱۵ سورة البقرة تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم تعداد کو پورا کر لو اور اس بات پر اللہ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے اور تا کہ تم اس کے شکر گزار بندے بنو۔اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو میں ان کے پاس ہی ہوں۔جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔سوچاہیے کہ وہ بھی میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔یہ تو درست ہے کہ حکومت وقت نے اپنے ایک فیصلہ کے ذریعے جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اور دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہے۔اس لئے جو ان کے فیصلے ان کے معین کردہ دائرہ اسلام کے اندر نفوذ اسلام کے لئے ہوں ان کا اطلاق جماعتِ احمدیہ پر نہیں ہوتا ، نہ ہو سکتا ہے۔اپنی جگہ یہ درست لیکن جو ہدایت اس نے قرآن عظیم کے ذریعے دی ہے ہماری اپنی ہی بھلائی کے لئے اور ترقیات کے لئے اس کی پابندی کرنا ہم میں سے ہر ایک پر ایک بنیادی فرض ہے ان ہدایات کے مطابق جو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں دی ہیں۔قرآن کریم نے شہر رمضان کی جو خصوصیات اور ذمہ داریاں ہیں وہ بیان کر دی ہیں ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر عمل کر کے وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے عملی تفسیر ان آیات کی رکھ دی ہے۔میں نے جو طریق اس وقت منتخب کیا ہے وہ یہ نہیں کہ میں ان آیات کی تفسیر کروں بلکہ اس میں سے میں نے بارہ پوائنٹس (Points) اٹھائے ہیں اور وہ یہ ہیں۔نمبر ایک یہ کہ روزہ رکھنا ہر اس شخص کے لئے ضروری ہے، ہر اس احمدی کے لئے ضروری ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے روزہ رکھنا ضروری قرار دیا ہے۔بعض آسانیاں پیدا کیں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر بعد میں آئے گا لیکن کسی احمدی کی خو” بہانہ جو نہیں ہونی چاہیے کہ بہانہ ڈھونڈ کے روزوں سے بچنے کی راہ کو اختیار کرے۔روزہ فرض ہے روزہ رکھنا ہر اس احمدی پر جس کو رکھنا چاہیے فرض ہے اور ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو اس کی سزا مقرر کی نہ رکھنے کی ، اس کے حکم توڑنے کی ، وہ کوئی دنیوی سزا نہیں ہے اور یہ یا درکھیں کہ دنیا کی کوئی سزا اللہ تعالیٰ کی سزا کا کفارہ نہیں بن سکتی کہ آپ سمجھیں کہ دنیا میں چونکہ انسان کی بنائی ہوئی سزا مل گئی اس لئے کفارہ ہو جائے گی۔قرآن کریم میں بعض ایسی سزاؤں کا ذکر ہے جو کفارہ بن جاتی ہیں۔تفصیل میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔ابھی یہ مضمون چلے گا وو