انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 214 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 214

۲۱۴ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث زیادہ محتاط ہیں وہ جو آخری ایک منٹ ہے وہ تو تمہارا ہے کھانے کا۔اس میں بے شک کھالیا کرو لیکن اصل یہ ہے کہ سفید دھاری روشنی کی ، کالی دھاری سے الگ نظر آنے لگ جائے۔اس کے بعد کچھ نہیں کھانا۔یہ حد ہے اس کے قریب بھی مت جاؤ اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ جو اس تفصیل کے ساتھ اپنے احکام بیان کرتا ہے۔اس طرح لوگوں کے لئے احکام بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ لوگ ہلاکتوں سے بچ جائیں تو یہ باتیں تفصیل سے تمہیں بتادیں۔روزہ کی مصلحتیں بتا دیں۔روزے کے آداب بتا دیئے۔روزہ کے آداب میں سے سب سے بڑا ادب قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت۔کثرت سے دعائیں کرنا ہے اور بیچ میں سے ایک آیت میں چھوڑ گیا تھا کیونکہ میں اس کے اوپر ذرا لمبا کہنا چاہتا تھا میرا خیال تھا کہ اگر وقت ہوا تو بتا دوں گا۔وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِ فَانِ قریب اس کا روزوں کے ساتھ اور ماہ رمضان کے ساتھ اور کثرت عبادت کے ساتھ اور کثرت قراءت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے (خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۸۱ تا ۲۹۱) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزوں کا رکھنا فرض کیا گیا ہے۔جس طرح ان لوگوں پر (ان کی شریعتوں کے مطابق ) فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے تا کہ تم روحانی اخلاقی کمزوریوں سے بچو۔سو تم روزے رکھو چند گنتی کے دن (رمضان کا مہینہ ) اور تم میں سے جو شخص مریض ہو یا مسافر تو اور دنوں میں تعداد پوری کرنی ہوگی اور ان لوگوں پر جو اس روزہ کی طاقت نہ رکھتے ہوں بطور فدیہ ایک مسکین کا کھانا واجب ہے یعنی جتنے روزے پھٹے ہیں اس کے مطابق بشرط استطاعت۔رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم اترا یا جس کے بارہ میں قرآن کریم نے ہدایت فرمائی۔یہ بھی درست ہے کہ رمضان میں پورے کا پورا قریباً قرآن اترا کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ ہر رمضان میں اس وقت تک جس قدر قرآن کریم نازل ہو چکا ہوتا حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا دور کرتے تھے۔رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اترا جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے جو کھلے دلائل، جو ہدایت کا رنگ رکھتے ہیں اپنے اندر رکھتا ہے اور فرقان ہے، مابہ الامتیاز پیدا کرتا ہے مسلم اور غیر مسلم کے درمیان۔اس لئے تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو دیکھے اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے اور جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس پر اور دنوں میں تعداد پوری کرنی واجب ہوگی۔اللہ