انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 16 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 16

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۶ سورة الفاتحة نے مقرر کیا ہوا ہے اور بہت سی تدبیریں دن کے ایک حصہ میں ہی کمال کو پہنچ جاتی ہیں مثلاً عورت نے گھر میں کھانا پکانا ہوتا ہے کوئی ایک گھنٹہ میں کھانا تیار کر لیتی ہے کوئی دو گھنٹہ میں اگر کوئی عورت یہ سمجھے کہ میں نے تدبیر کر لی اور کھانا پک گیا اب مجھے اپنے رب کی رحمت کی ضرورت نہیں تو ایسی عورت کو سبق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کبھی اس طرح بھی کرتا ہے کہ جس وقت بڑے شوق اور محنت سے وہ سالن تیار کر چکی ہوتی ہے اور خوش ہوتی ہے کہ میرے بچوں کو ، میرے خاوند کو اچھی غذامل جائے گی تو ایک بچہ دوڑ تا آتا ہے اور اس کی ٹھوکر سے ساری ہنڈیا چولہے کے اندر گر جاتی ہے اللہ تعالیٰ بتانا چاہتا ہے کہ تیری تدبیر کافی نہیں میر افضل جب تک ساتھ نہ ہو انسان کامیاب نہیں ہوسکتا۔کا فر اور منکر کہتا ہے یہ حادثہ ہے مومن کہتا ہے اَسْتَغْفِرُ اللہ مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میری تدبیر کے ساتھ شامل نہ ہوئی اس طرح اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب تک میری رحیمیت کا جلوہ تمہاری تدبیر کے ساتھ نہیں ہو گا تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۶۸ تا ۱۷۴) رحیمیت کی صفت تقاضا کرتی ہے کہ انسان اعمال کے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر چھوڑے اور اس حقیقت کو پہچانے کہ تدبیر کرنا انسان کا کام ہے اور نتیجہ نکالنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اس دنیا میں جو اسباب کی دنیا ہے خدا تعالیٰ کی اس صفت کے جلوے بہت سے لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ رہتے ہیں کیونکہ اسباب کے پردے میں وہ جلوے بہت حد تک مستور ہوتے ہیں لیکن ایک مومن بندہ یہ جانتا ہے کہ انسان خواہ کتنی ہی تدبیر کیوں نہ کرے جو اسباب اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں ان کا بہترین استعمال کرے، اپنی قوتوں اور استعدادوں کو ضائع نہ ہونے دے اور ان کا صحیح استعمال کرے اور دعا بھی کرے کہ یہ بھی تدبیر ہی ہے پھر بھی دعا کو قبول کرنا اور اسباب کا وہ نتیجہ نکالنا جو یہ شخص چاہتا ہے کہ نکلے جس نے تدبیر کے ذریعے ان اسباب کو استعمال کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔محض تد بیر کرنے سے یقینی طور پر وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو تد بیر کرنے والا چاہتا ہے نہ ساری دعائیں قبول ہوتیں ہیں۔ہماری اس زندگی میں ہزاروں بار یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ تدبیر کو انسان اپنی انتہا تک پہنچا دیتا ہے دعاؤں میں کوئی کمی نہیں رکھتا بظاہر لیکن دعا ئیں بھی رڈ کر دی جاتی ہیں اور تدابیر بھی بے نتیجہ ثابت ہوتی ہیں اور انسان حیران اور پریشان ہوتا ہے کہ میں نے کیا کچھ تھا اور چاہتا کچھ تھا لیکن ہوا کچھ اور۔اور میری خواہش کے