انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 15

تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۵ سورة الفاتحة پہنچانے کے لئے تدبیر کا ہی ایک حصہ بنا کر تدبیر کی کامیابی کے لئے دعا کا ہم کو حکم دیا ، ہم نے اپنے جتن کئے ، ہم کامیاب نہیں ہوئے اس لئے تو ہمارے لئے اپنی صفت رحمانیت کو جوش میں لا اور ہماری ضرورت کو پورا کر جس طرح بے شمار ضرور تھیں تو نے ہمارے بغیر کسی عمل اور استحقاق کے اس سے پہلے پوری کر دیں۔۔۔۔۔رحیمیت کی صفت ہم پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لئے جو سامان پیدا کہتے ہیں ان سامانوں کو بہترین رنگ میں ہم استعمال کریں اور ساتھ ہی روحانی تدبیر سے بھی کام لیں اور اس طرح اپنی تدبیر کو کمال تک پہنچائیں کیونکہ اگر تد بیر اپنے کمال کو نہ پہنچے تو بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے پس تدبیر کو انتہا تک پہنچانا ضروری ہے عقلاً بھی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی روشنی میں بھی جب انسان اس دنیا میں تدبیر کو اپنے کمال تک پہنچاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں صفت رحیمیت کا وہ جلوہ دیکھتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے دنیا دار انسان جو خدا پر یقین نہیں رکھتا وہ رحیمیت کا جلوہ تو دیکھتا ہے مگر وہ بدقسمت اسے پہچانتا نہیں وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے زور سے کامیاب ہوا وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس کی طرح ہی تدبیر کو اپنی انتہا ء تک پہنچایا مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے مثلاً سائنس دان ہیں ایک ایک مسئلہ کے حل کے لئے بعض دفعہ دو دو سو سائنسدان تحقیق میں لگے ہوتے ہیں اور صرف ایک یا دو اس مسئلے کو حل کر پاتے ہیں اور باقی نا کام رہ جاتے ہیں حالانکہ تدبیر بظاہر ایک جیسی تھی اب جو دو کامیاب ہوئے یا ایک کامیاب ہوا تو وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی تدبیر سے کامیاب ہوا اور وہ یہ نہیں دیکھتا کہ ایک سو ننانوے دوسرے سائنسدان جو ہیں وہ اسی قسم کی تدبیر کرنے کے باوجود نا کام کیسے ہو گئے؟ پس اللہ تعالیٰ بعض پر رحیمیت کا جلوہ ظاہر کر دیتا ہے یہ جلوہ تو وہ دیکھتے ہیں لیکن صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں روحانی بینائی سے محروم ہیں اس لئے ان جلووں کے باوجود وہ خدائے رحیم کی معرفت سے محروم رہ جاتے ہیں۔رحیمیت کے جلوے جماعت مومنین بھی ہر روز ہی دیکھتی ہے کیونکہ بعض کام ایسے ہیں کہ ان کے لئے بیس منٹ کی تدبیر کرنی پڑتی ہے اور بعض کام ایسے ہیں جن کے لئے گھنٹہ کی تدبیر کرنی پڑتی ہے اور بعض کام ایسے ہیں جن کے لئے دو گھنٹے کی تدبیر کرنی پڑتی ہے ہر کام کے لئے ایک وقت اللہ تعالیٰ