انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 207 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 207

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۰۷ سورة البقرة سے جو شخص بھی اس مہینہ کو پائے یا دیکھے، اس حالت میں کہ نہ وہ مریض ہونہ مسافر اسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس پر اور دنوں میں تعداد پوری کرنا واجب ہوگی۔اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور یہ حکم اس نے اس لئے دیا ہے کہ تم تنگی میں نہ پڑو اور تاکہ تم تعداد کو پورا کر لو اور اس بات پر اللہ کی بڑائی کرو اس نے تم کو ہدایت دی ہے تا کہ تم اس کے شکر گزار بنو۔اور اے رسول ! جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو جواب دو کہ میں ان کے پاس ہی ہوں۔جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔سو چاہیے کہ وہ دعا کرنے والے بھی میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔تمہیں روزہ رکھنے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانے کی اجازت ہے وہ تمہارے لئے ایک قسم کا لباس ہیں اور تم ان کے لئے ایک قسم کا لباس ہو۔اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے۔اس لئے اس نے تم پر فضل سے توجہ کی اور تمہاری اس حالت کی اصلاح کر دی۔سواب تم ہلا تامل ان کے پاس جاؤ اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے اس کی جستجو کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔اس کے بعد صبح سے رات تک روزوں کی تعمیل کرو اور جب تم مساجد میں مختلف ہو تو ان بیویوں کے پاس نہ جاؤ۔یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس لئے تم ان کے قریب بھی مت پھٹکو۔اللہ اسی طرح لوگوں کے لئے اپنے احکامات بیان کرتا ہے۔تا کہ وہ ہلاکتوں سے بچیں۔ان آیات میں جو احکام دیئے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔اب میں مفہوم بتاؤں گا۔نمبر ایک روزہ رکھنا تم پر اس طرح فرض ہے جس طرح پہلوں پر فرض کیا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلوں پر ماہ رمضان میں اسی طرح روزے فرض کئے گئے تھے جس طرح مسلمان پر کئے گئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلوں پر بھی روزے فرض کئے گئے تھے اور انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اپنی اپنی شریعت کے احکام کے مطابق روزے رکھو تو جس طرح پہلوں پر فرض تھا کہ وہ اپنی شرائع کے مطابق اور ان کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے روزے رکھیں۔اسی طرح تم پر فرض ہے کہ تم اپنی شریعت کے مطابق اور ان کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے روزے ان دنوں میں جن دنوں میں روزہ رکھنے کا حکم ہے۔ان