انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 201
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۰۱ سورة البقرة بشاشت محسوس کرو گے کہ کتنا سچا ہے ہمارا خدا اور کتنا مہربان ہے وہ کہ وقت سے پہلے ہی اس نے یہ بتا دیا تھا کہ ہم اس قسم کی آزمائش میں تمہیں ڈالیں گے۔و الثَّمرات اور کبھی وہ یہ کرے گا کہ دنیا کے حصول کے لئے جو تمہاری کوششیں ہوں گی دنیوی میدان میں اس کا نتیجہ ٹھیک نہیں نکلے گا اور ہم اس کو تمہارے لئے ایک آزمائش بنادیں گے۔تو اس قسم کی آزمائشوں کو قضاء و قدر کی آزمائش کہا جاتا ہے یہ دوسری قسم کی آزمائش ہے جس میں سے مومن کو گزرنا پڑتا ہے۔۔۔۔پھر قضاء و قدر کی آزمائش میں بھی ہمیں نہایت اچھا اور نیک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔اس وقت مسلمان کہلانے والوں میں سے ایسے خاندان بھی آپ کو نظر آئیں گے جو گھر میں فوت وموت ہونے کے وقت یا تو خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں یا پھر اس کا شکوہ شروع کرنے لگتے ہیں۔وہ اس بشارت کے مستحق نہیں بن سکتے جس کا ذکر خدا تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے۔وبَشِّرِ الصّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ - جس کی چیز تھی اس نے لے لی شکوہ کی گنجائش ہی کہاں ہے لیکن انسان بعض دفعہ بڑی حماقت کی باتیں کرتا ہے اور اپنے رب کا بھی شکوہ شروع کر دیتا ہے۔تو قضاء و قدر کی آزمائش اور امتحان جو ہمارے لئے مقدر ہیں ان میں بھی ہم نے ایسا نمونہ دکھانا ہے کہ خدا تعالی کی بشارتیں ہمیں ملیں اس کا غضب یا نا راضگی ہم پر نہ اترے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۲۱۷ تا ۲۲۱) آیت ۱۷۸ لَيْسَ الْبِرَّ اَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ ج الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ الْمَلَكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِينَ وَأَتَى الْمَالَ عَلَى حُبّهِ ذَوِى الْقُرْبى وَالْيَتَى وَ الْمَسْكِينَ وَ ابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَ أَقَامَ الصَّلوةَ وَ أَتَى الزَّكَوةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عُهَدُوا ۚ وَالصُّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَاسِ أولَبِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اکبر کا لفظ دو دفعہ مختلف معانی میں استعمال کیا ہے۔البر کے ایک معنی