انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 199
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۹۹ سورة البقرة جان لے کر بھی تمہاری آزمائش کریں گے یعنی جان لے کر آزمائش تو اس کی ہے جس کی جان نہیں لی گئی۔یعنی تمہاروں کی جان لوں گا میں اور تمہاری آزمائش کروں گا وہ تمام فدائی جو پہلے زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے وقت اپنی جان شماری کا ثبوت دے رہے تھے اور شہادت حاصل کر رہے تھے وہ توججوں میں چلے جاتے تھے۔تکلیف اٹھانے والے، امتحان میں پڑنے والے تو وہ رہ جاتے تھے جو پیچھے زندہ چھوڑے جائیں۔اور پھلوں کا نقصان ہو گا۔باغات ہیں زراعت ہے، ثمرات کے لفظ میں صرف درخت کا پھل نہیں آتا بلکہ زمین کی پیداوار ساری کی ساری اس کے اندر آجاتی ہے۔تو تمام ذرائع آمد کا ذکر کیا ہے مختلف پہلوؤں سے، مختلف وقتوں میں، مختلف شکلوں میں اللہ تعالیٰ نقصان کے ذریعے ان چیزوں میں ہماری آزمائش کرتا ہے۔دوسری بات جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ مصیبتیں جو تم پر نازل ہوں گی ، وہ ایک دوسری قسم کی مصیبت جو ہے ویسی نہیں ہوں گی۔قرآن کریم سے ہمیں پتا چلتا ہے اور اس آیت میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ مصیبت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک آزمائش ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب کی شکل میں آتی ہے اور ایک وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے امتحان کی شکل میں آتی ہے۔تو یہاں یہ فرمایا کہ یہ مصیبتیں عذاب نہیں، آزمائش ہیں۔جو مصیبتیں عذاب یہ کی شکل میں ہوتی ہیں ان کا تعلق انذار اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی جہنم سے ہے لیکن جو مصیبتیں آزمائش کے رنگ میں آتی ہیں ان کا تعلق بشارتوں اور خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کے ساتھ ہے۔اس لئے یہاں اعلان کیا گیا کہ یہ مصیبتیں جو تم پر آئیں گی یہ تمہاری آزمائش کے لئے ہوں گی۔یہ بریکیٹڈ (Bracketed) ہوں گی ہماری بشارتوں کے ساتھ ہمارا عذاب نہیں ہوگا۔جس پر آئیں گی ، اس سے یہ نہیں ثابت ہوگا کہ خدا ان سے ناراض ہوا یہ ثابت ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیار کے جلوے ان پر ظاہر کرنا چاہتا ہے۔تیسری بات یہاں یہ بیان کی گئی کہ اس امتحان میں ہر امتحان کے ساتھ یہ لگا ہوا ہے کہ فیل بھی ہو جاتے ہیں لوگ اور کامیاب بھی ہوتے ہیں۔تو یہاں یہ اعلان کیا گیا کہ اس امتحان میں ) پورے وہ اترتے ہیں جو آزمائشی مصیبت، امتحان کے رنگ میں جو مصیبت آتی ہے جب وہ آئے تو ان کی توجہ اپنے دکھ اور درد کی طرف نہیں ہوتی ، اپنے نقصان کے خیال سے وہ اذیت نہیں اٹھارہے ہوتے بلکہ